کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت آخری قراءت تھی
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس قال: أيَّ القراءتين تَرَونَ كان آخرَ القراءة؟ قالوا: قراءةُ زيد، قال: لا، إنَّ رسول الله ﷺ كان يَعرِضُ القرآنَ كلَّ سَنةٍ على جبريل ﵇، فلما كانت السنةُ التي قُبِضَ فيها عَرَضَه عليه عَرْضَتين، فكانت قراءةُ ابنِ مسعود آخرَهنَّ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة، وفائدة الحديث ذِكرُ عبد الله بن مسعود.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2903 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: تمہارے خیال میں (نزولِ قرآن کے سلسلے کی) آخری قرات کون سی تھی؟ لوگوں نے کہا: زید بن ثابت کی قرات، انہوں نے فرمایا: نہیں! بلکہ رسول اللہ ﷺ ہر سال جبریل علیہ السلام کے سامنے قرآن کا دور (پیش) فرمایا کرتے تھے، جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو مرتبہ دور فرمایا، چنانچہ عبد اللہ بن مسعود کی قرات سب سے آخری قرات تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور اس حدیث کا علمی فائدہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا خصوصی تذکرہ ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2939
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن مهاجر، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 2939] [ترقيم الشركة 2921] [ترقيم العلميه 2903]
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا علي بن عبد العزيز البَغَوي بمكة، حدثنا حَجَّاج بن المِنهال، قال: حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة قال: عُرِضَ القرآنُ على رسول الله ﷺ عَرَضاتٍ. فيقولون: إنَّ قراءتنا هذه هي العَرْضةُ الأخيرة (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري بعضُه، وبعضُه على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. من كتاب قراءات النبي ﷺ ممّا لم يُخرجاه وقد صَحَّ سندُه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2904 - صحيح
مِنْ كِتَابِ قِرَاءَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ صَحَّ سَنَدُهُ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قرآن کریم رسول اللہ ﷺ کے سامنے کئی مرتبہ پیش کیا گیا (دور کیا گیا)؛ پس لوگ کہتے ہیں کہ ہماری یہ موجودہ قرات ہی آخری پیشی (العرضۃ الاخیرۃ) کے مطابق ہے۔
اس حدیث کا کچھ حصہ امام بخاری کی شرط پر اور کچھ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا؛ یہ ان احادیث میں سے ہے جو نبی کریم ﷺ کی قرات کے بارے میں ہیں جن کا سنداً صحیح ہونے کے باوجود شیخین نے ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2940
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد سلف الكلام على سماع الحسن - وهو البصري - من سمرة عند الحديث (150)، وحسَّن إسناده الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1552) و"فتح الباري" 15/ 91. والقائل: "فيقولون: إنَّ قراءتنا … إلخ" هو حماد بن سلمة كما وقع مصرَّحًا به في رواية عبيد الله بن ...» [ترقيم الرساله 2940] [ترقيم الشركة 2922] [ترقيم العلميه 2904]