حدیث نمبر: 2939
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس قال: أيَّ القراءتين تَرَونَ كان آخرَ القراءة؟ قالوا: قراءةُ زيد، قال: لا، إنَّ رسول الله ﷺ كان يَعرِضُ القرآنَ كلَّ سَنةٍ على جبريل ﵇، فلما كانت السنةُ التي قُبِضَ فيها عَرَضَه عليه عَرْضَتين، فكانت قراءةُ ابنِ مسعود آخرَهنَّ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة، وفائدة الحديث ذِكرُ عبد الله بن مسعود.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2903 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: تمہارے خیال میں (نزولِ قرآن کے سلسلے کی) آخری قرات کون سی تھی؟ لوگوں نے کہا: زید بن ثابت کی قرات، انہوں نے فرمایا: نہیں! بلکہ رسول اللہ ﷺ ہر سال جبریل علیہ السلام کے سامنے قرآن کا دور (پیش) فرمایا کرتے تھے، جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو مرتبہ دور فرمایا، چنانچہ عبد اللہ بن مسعود کی قرات سب سے آخری قرات تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور اس حدیث کا علمی فائدہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا خصوصی تذکرہ ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2939
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن مهاجر، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 2939] [ترقيم الشركة 2921] [ترقيم العلميه 2903]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن مهاجر، وقد توبع.
درجۂ حدیث و اسناد: یہ خبر "صحیح" ہے، اور یہ سند ابراہیم بن مہاجر کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے، اور ان کی متابعت (تائید) کی گئی ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2494) عن محمد بن سابق عن إسرائيل، بهذا الإسناد.

وأخرجه أحمد أيضًا 5/ (3422)، والنسائي (7940) و (8201) من طريق الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عبَّاس. وهذا إسناد صحيح.

حوالہ / تخریج: اسے امام احمد نے (4/ 2494) محمد بن سابق عن اسرائیل کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز اسے امام احمد (5/ 3422) اور نسائی (7940، 8201) نے اعمش عن ابی ظبیان عن ابن عباس کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔ اور یہ (دوسری) سند صحیح ہے۔
وقصة عرض القرآن على جبريل دون ذكر زيد أو ابن مسعود أخرجها أحمد 3/ (2042) من طريق عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عبَّاس. وانظر تتمة تخريجها فيه.
حوالہ / تخریج: زید یا ابن مسعود کے ذکر کے بغیر جبرائیل پر قرآن پیش کرنے (عرض) کا قصہ امام احمد (3/ 2042) نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس کی تخریج کا بقیہ حصہ وہاں دیکھیں۔
ويشهد لها حديث أبي هريرة عند البخاري (4998).
شاہد: صحیح بخاری (4998) میں موجود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کی شاہد (تائید کرنے والی) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2939 سے ماخوذ ہے۔