سمعت أبا العبَّاس محمد بن يعقوب يقول: حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم بن أعَيَنَ المِصْري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إدريس الشافعي، حدثنا إسماعيل بن عبد الله بن قُسطَنطِينَ، قال: قرأتُ على شِبْلٍ، وأخبَرَ شِبلٌ أنه قرأ على عبد الله بن كَثِير، وأخبَرَ عبدُ الله أنه قرأ على مجاهد، وأخبَرَ مجاهدٌ أنه قرأ على ابن عبَّاس، وأخبَرَ ابن عبَّاس، أنه قرأ على أُبيِّ بن كعب، وقال ابن عبَّاس: قرأ أُبيٌّ على النبي ﷺ. قال الشافعي: وقرأتُ على إسماعيل بن قُسطَنطِين، وكان يقول: القُرَانُ اسمٌ وليس بمهموزٍ، ولم يُؤخَذْ من "قَرَأْت"، ولو أُخِذَ من "قَرَأْت" كان كلُّ ما قُرِئَ قُرآنًا، ولكنه اسمٌ للقُرَان مثلُ التوراة والإنجيل، يُهمَز قَرَأْت، ولا يُهمَزُ القُرَان (1).
حافظ طلحہ بابر
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسماعیل بن قسطنطین پر قرات کی، وہ کہا کرتے تھے: ”القران“ (قرآن) ایک نام ہے اور یہ ہمزہ کے بغیر ہے، یہ لفظ ”قرات“ (پڑھنے) سے مشتق نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ لفظ ”قرات“ سے نکلا ہوتا تو ہر وہ چیز جسے پڑھا جائے وہ قرآن کہلاتی، بلکہ یہ تو کلام اللہ کا ایک مخصوص نام ہے جیسے تورات اور انجیل، جب ہم ”قرات“ کہتے ہیں تو اس میں ہمزہ پڑھتے ہیں لیکن جب ”القران“ کہتے ہیں تو اس میں ہمزہ نہیں پڑھتے۔ (واضح رہے کہ امام شافعی نے اسماعیل سے، انہوں نے شبل سے، انہوں نے عبد اللہ بن کثیر سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے قرات سیکھی اور ابی نے نبی کریم ﷺ سے براہِ راست قرات حاصل کی تھی)۔
حدثني أبو بكر أحمد بن العبَّاس ابنُ الإمام المقرئُ، حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البَغَوي، حدثنا خَلَف بن هشام المقرئ، وحدثني علي بن حمزة الكِسَائي، حدثني حسين بن علي الجُعْفي، عن حُمْران بن أَعيَنَ، عن أبي الأسود الدِّيلِي، عن أبي ذرٍّ قال: جاء أعرابيٌّ إلى رسول الله ﷺ فقال: يا نَبِيءَ الله، فقال رسول الله ﷺ: "لستُ نَبيءَ الله، ولكنِّي نبيُّ الله" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ مفسَّر بإسناد ليس من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2906 - بل منكر لم يصح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ مفسَّر بإسناد ليس من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2906 - بل منكر لم يصح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: «يا نَبِيءَ الله» (اے اللہ کے نبی! - ہمزہ کے ساتھ)، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں «نَبِيءَ الله» (ہمزہ والا لفظ) نہیں ہوں، بلکہ میں «نبيُّ الله» (اللہ کا نبی - بغیر ہمزہ کے) ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک مفصل شاہد روایت بھی ہے جس کی سند اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک مفصل شاہد روایت بھی ہے جس کی سند اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔
حدثني أبو الحسين محمد بن محمد بن يعقوب الحافظ المقرئ، حدثنا أبو القاسم العبَّاس بن الفضل بن شاذانَ المقرئ، حدثنا إبراهيم بن مِهرانَ الأَيْلي، حدثنا مِهرانُ بن داود بن مِهران المقرئ، حدثنا عبد الله بن أُذَينة الطائي، عن موسى بن عُبيدة، عن نافع، عن ابن عمر قال: ما هَمَزَ رسولُ الله ﷺ ولا أبو بكر ولا عمرُ، ولا الخلفاءُ، وإنما الهمزُ بِدْعةٌ ابتَدَعوها مَن بَعدَهم (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نہ رسول اللہ ﷺ نے (لفظِ نبی وغیرہ میں) کبھی ہمزہ پڑھا، نہ ابوبکر نے، نہ عمر نے اور نہ ہی دیگر خلفاء نے، بلکہ (ایسے کلمات میں) ہمزہ پڑھنا تو ایک بدعت ہے جو ان کے بعد کے لوگوں نے ایجاد کی ہے۔ (یاد رہے کہ اس کی سند کے ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ کے بارے میں امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی اور عبد الرحمن بن زیاد افریقی کی حدیث نہیں لکھتا کیونکہ وہ ضعیف ہیں)۔
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني الحافظ، يقول: سمعت أبا زكريا يحيى بن محمد بن يحيى يقول: سمعت أحمد بن حَنبَل يقول: لا أكتبُ حديثَ موسى بن عُبيدة الرَّبذِي ولا حديثَ عبد الرحمن بن زياد الأَفريقي.
حافظ طلحہ بابر
ابو عبداللہ محمد بن یعقوب الشیبانی الحافظ، ابوزکریا یحییٰ بن محمد بن یحییٰ سے اور وہ امام احمد بن حنبل سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نہ تو موسیٰ بن عبیدہ الربذی کی حدیث لکھتا ہوں اور نہ ہی عبد الرحمن بن زیاد الافریقی کی حدیث (بطور حجت) تحریر کرتا ہوں۔“
حدثنا أبو علي الحُسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكرَم، حدثنا نصر بن علي الجَهضَمي، أخبرنا بكَّار بن عبد الله، حدثنا محمد بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن بن عَوف، حدثني أبو الزِّناد، عن خارجةَ بن زيد، عن زيد بن ثابت، عن النبي ﷺ قال: "أُنزِلَ القرآنُ بالتَّفخيم"؛ كهَيئةِ: عُذُر أو نُذُر والصُّدُفَين، و ﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ﴾ [الأعراف: 54]، وأشباهِ هذا في القرآن (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2908 - لا والله العوفي على ضعفه وبكار ليس بعمدة والحديث واه منكر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2908 - لا والله العوفي على ضعفه وبكار ليس بعمدة والحديث واه منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کریم تفخیم (حروف کو پُر یا موٹا پڑھنے) کے ساتھ نازل ہوا ہے“؛ جیسا کہ ان الفاظ کی ہیئت ہے: «عُذُر»، «نُذُر»، «الصُّدُفَين» اور ﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ﴾ [الأعراف: 54] اور قرآن میں اس جیسی دیگر مثالیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔