حدثنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي وِبْشر بن موسى الأَسَدي والحارث بن أبي أُسامة التميمي قالوا: حدثنا يحيى بن إسحاق السّالَحِيني، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثني يزيد بن أبي حَبِيب، أنَّ عبد الرحمن بن شُمَاسَة حدَّثه عن زيد بن ثابت قال: كنَّا حولَ رسول الله ﷺ نُؤلِّفُ القرآنَ، إذ قال: "طُوبَى للشَّام"، فقيل له: ولِمَ؟ قال: "إنَّ ملائكةَ الرحمنِ باسطةٌ أجنِحتَها عليهم" (1). رواه جرير بن حازم عن يحيى بن أيوب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2900 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2900 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہو کر قرآن کریم کی تالیف (متفرق اجزاء کو ترتیب دینے) کا کام کر رہے تھے کہ اسی دوران آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شام کے لیے خوشخبری (طوبیٰ) ہے“، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کس لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک رحمٰن کے فرشتے ان (اہلِ شام) پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں“۔ اسے جریر بن حازم نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے۔
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أَبي، سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسةَ، عن زيد بن ثابت قال: كنَّا عند رسول الله ﷺ نُؤلِّفُ القرآن من الرِّقَاع، فقال رسول الله ﷺ: "طُوبَى للشَّام"، فقلنا: لأيِّ شيءٍ ذاك؟ فقال: "لأنَّ ملائكةَ الرحمن باسطةٌ أجنِحتَها عليهم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وفيه البيانُ الواضحُ: أنَّ جَمْعَ القرآن لم يكن مرةً واحدةً، فقد جُمِعَ بعضُه بحَضْرة رسول الله ﷺ، ثم جُمِعَ بحَضْرة أبي بكر الصِّدّيق، والجمعُ الثالث - وهو ترتيب السُّوَر - كان في خلافة أمير المؤمنين عثمان، ﵃ أجمعين.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وفيه البيانُ الواضحُ: أنَّ جَمْعَ القرآن لم يكن مرةً واحدةً، فقد جُمِعَ بعضُه بحَضْرة رسول الله ﷺ، ثم جُمِعَ بحَضْرة أبي بكر الصِّدّيق، والجمعُ الثالث - وهو ترتيب السُّوَر - كان في خلافة أمير المؤمنين عثمان، ﵃ أجمعين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس چمڑے کے ٹکڑوں سے قرآن کریم کو جمع (ترتیب) کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شام کے لیے خوشخبری (طوبیٰ) ہے“، ہم نے عرض کی: وہ کس لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لیے کہ رحمان کے فرشتے ان (اہلِ شام) پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں یہ واضح بیان موجود ہے کہ قرآن کا جمع کرنا ایک ہی مرتبہ میں مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کا کچھ حصہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں جمع کیا گیا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع ہوا، اور تیسرا جمع کرنا - جو کہ سورتوں کی موجودہ ترتیب ہے - امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کی خلافت میں ہوا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں یہ واضح بیان موجود ہے کہ قرآن کا جمع کرنا ایک ہی مرتبہ میں مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کا کچھ حصہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں جمع کیا گیا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع ہوا، اور تیسرا جمع کرنا - جو کہ سورتوں کی موجودہ ترتیب ہے - امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کی خلافت میں ہوا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن أيوب العَلَّاف، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا محمد بن جعفر بن أبي كَثير، حدثنا شَرِيك بن عبد الله بن أبي نَمِرٍ، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي ذرٍّ أنه قال: دخلتُ المسجدَ يومَ الجُمُعة، والنبيُّ ﷺ يَخطُب، فجلستُ قريبًا من أُبيِّ بن كعب، فقرأَ النبيُّ ﷺ سورةَ براءةَ، فقلت لأُبي: متى نَزَلَت هذه السورةُ؟ قال: فتجهَّمَني ولم يُكلِّمْني؛ قال: وذكر الحديث (1). هكذا وجدتُه في كتابي، وطلبتُه في المسانيد فلم أجده بطوله، والحديث بإسنادٍ صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2902 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2902 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے قریب بیٹھ گیا، نبی کریم ﷺ نے سورہ براءت (توبہ) کی تلاوت فرمائی تو میں نے ابی سے پوچھا: یہ سورت کب نازل ہوئی؟ انہوں نے میری طرف ناگواری سے دیکھا اور مجھ سے کوئی کلام نہ کیا؛ (راوی نے پوری حدیث ذکر کی)۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں اسے اسی طرح پایا ہے، میں نے اسے مسانید میں طوالت کے ساتھ تلاش کیا مگر نہ مل سکی، اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔