کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو شخص قرآن کو اسی طرح تازہ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا تو وہ اسے ابنِ امِ عبد کے طریقے پر پڑھے
أخبَرَناه أبو بكر بن أبي دارمٍ الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا القاسم بن بِشْر بن معروف، حدثنا مُصعَب بن المِقْدام الخَثعَمي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلقَمة، عن عمر، عن النبي ﷺ قال: "من أحبَّ أن يَقرأَ القرآنَ غَضًّا كما أُنزِلَ، فليَقرَأْ على قراءة ابن أمِّ عبدٍ" (2). حديث عَلقَمة عن عمر صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأتوهَّمُهما لم يَصِحَّ عندهما سماعُ علقمة بن قيس من عمر (1)، والله أعلم. وله شاهد مفسَّر من حديث عمَّار بن ياسر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص یہ پسند کرے کہ وہ قرآن کو اسی طرح ترو تازہ پڑھے جیسا کہ وہ نازل کیا گیا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ابنِ امِ عبد (عبد اللہ بن مسعود) کی قرات کے مطابق پڑھے۔“ علقمہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میرا گمان یہ ہے کہ ان کے نزدیک علقمہ بن قیس کا سیدنا عمر سے سماع ثابت نہیں ہے، واللہ اعلم۔ اور اس کی ایک مفصل شاہد روایت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2930
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، ابن أبي دارم» [ترقيم الرساله 2930] [ترقيم الشركة 2912]
أخبَرَناه أبو محمد عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان الفارسي، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيْسي، حدثنا محمد بن جعفر بن أبي كَثير، عن إسماعيل بن صَخْر الأَيْلي، عن أبي عُبيدة بن محمد بن عمَّار بن ياسر، عن أبيه، عن عمَّار بن ياسر: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ بعبد الله بن مسعود وهو يقرأُ حرفًا حرفًا، فقال: "مَن سَرَّه أن يقرأَ القرآنَ كما أُنزِلَ، فليَقرَأْه على قراءة ابنِ مسعود" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ حرف بحرف (قرآن) پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ بات خوش کرے کہ وہ قرآن ویسا ہی پڑھے جیسا نازل ہوا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ابنِ مسعود کی قرات کے مطابق پڑھے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2931
درجۂ حدیث محدثین: صحيح بما قبله
تخریج حدیث «صحيح بما قبله، وهذا إسناد حسن، وحسَّنه الإمام محمد بن إسماعيل البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "العلل الكبير" (652).» [ترقيم الرساله 2931] [ترقيم الشركة 2913] [ترقيم العلميه 2895]
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن المثنَّى بن معاذ بن معاذ، حدثنا أَبي، حدثنا أَبي (3)، حدثنا عبد الله بن عَوْن، حدثني عمر بن قيس، عن أبي مَيْسَرة عَمرو بن شُرَحْبيل قال: أَتى عليَّ رجل وأنا أصلِّي فقال: ثَكِلَتْك أمُّك، ألا أَراكَ تصلِّي وقد أُمِرَ بكتاب الله أن يُمزَّقَ كلَّ مُمَزَّق، قال: فتجوَّزتُ في صلاتي، وكنت [لا] أُحبَسُ (1)، فدخلتُ الدارَ ولم أُحبَسْ، ورَقِيتُ ولم أُحبَسْ، فإذا أنا بالأشعريِّ، وحذيفةُ وابنُ مسعود يَتقاوَلانِ، وحذيفةُ يقول لابن مسعود: ادفَعْ إليهم هذا المصحفَ، قال: واللهِ لا أدفَعُه، أقرأَني رسولُ الله ﷺ بِضعًا وسبعين سورةً، ثم أَدفَعُه إليهم، والله لا أدفَعُه إليهم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2896 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص میرے پاس آیا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور اس نے کہا: تمہاری ماں تمہیں روئے! کیا میں تمہیں دیکھ نہیں رہا کہ تم نماز پڑھ رہے ہو حالانکہ کتاب اللہ کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی نماز مختصر کی اور میں (نماز کے بعد) کہیں رکا نہیں، میں گھر میں داخل ہوا اور سیدھا اوپر چڑھ گیا، وہاں میں نے دیکھا کہ ابو موسیٰ اشعری، حذیفہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے تکرار کر رہے تھے، حذیفہ رضی اللہ عنہ ابن مسعود سے کہہ رہے تھے: آپ اپنا یہ مصحف ان کے حوالے کر دیں، ابن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ہرگز حوالے نہیں کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے مجھے ستر سے زائد سورتیں پڑھائی ہیں، پھر میں اسے ان کے حوالے کر دوں؟ اللہ کی قسم! میں اسے ان کے حوالے نہیں کروں گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2932
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، عمر بن قيس: هو الماصر أبو الصبّاح الكوفي.» [ترقيم الرساله 2932] [ترقيم الشركة 2914] [ترقيم العلميه 2896]
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن خُمَير (3) بن مالك، قال: قال عبد الله بن مسعود: لقد قرأتُ مِن فِي رسولِ الله ﷺ سبعين سورةً، وزيدُ بن ثابتٍ ذو ذُؤابتَينِ يلعبُ مع الصِّبيان (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ولهذه الزيادة شاهدٌ عن عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2897 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خود رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں جبکہ (ان دنوں) زید بن ثابت دو مینڈھیوں (چوٹیوں) والے لڑکے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2933
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل خمير بن مالك فهو تابعي كبير وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع. سفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبِيعي.- وأخرجه أحمد 6/ (3697) و (3846) و (4218) عن وكيع، عن سفيان، بهذا الإسناد. وفيه: وزيد له ذؤابة في الكُتّاب.» [ترقيم الرساله 2933] [ترقيم الشركة 2915] [ترقيم العلميه 2897]
أخبَرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد الحَنظَلي ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا يحيى بن حمَّاد، حدثنا أبو عَوَانة، حدثني إسماعيل بن سالم، عن أبي سَعْد (1) الأَسْدي قال: سمعت عبدَ الله بنَ مسعود يقول: أقرأَني رسول الله ﷺ سبعين سورةً أحكَمْتُها قبل أن يُسلِمَ زيدُ بن ثابت (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2898 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ستر سورتیں پڑھائی ہیں جنہیں میں نے زید بن ثابت کے اسلام لانے سے پہلے ہی پختہ کر لیا تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2934
درجۂ حدیث محدثین: صحيح بما قبله
تخریج حدیث «صحيح بما قبله، وهذا إسناد حسن من أجل أبي سعد الأزدي، فقد روى عنه غير واحد وذكره ابن حبان في "الثقات". أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأبو عوانة: هو وضّاح اليشكُري.» [ترقيم الرساله 2934] [ترقيم الشركة 2916] [ترقيم العلميه 2898]