المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ باب: جو شخص قرآن کو اسی طرح تازہ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا تو وہ اسے ابنِ امِ عبد کے طریقے پر پڑھے
حدیث نمبر: 2930
أخبَرَناه أبو بكر بن أبي دارمٍ الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا القاسم بن بِشْر بن معروف، حدثنا مُصعَب بن المِقْدام الخَثعَمي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلقَمة، عن عمر، عن النبي ﷺ قال: "من أحبَّ أن يَقرأَ القرآنَ غَضًّا كما أُنزِلَ، فليَقرَأْ على قراءة ابن أمِّ عبدٍ" (2). حديث عَلقَمة عن عمر صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأتوهَّمُهما لم يَصِحَّ عندهما سماعُ علقمة بن قيس من عمر (1)، والله أعلم. وله شاهد مفسَّر من حديث عمَّار بن ياسر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص یہ پسند کرے کہ وہ قرآن کو اسی طرح ترو تازہ پڑھے جیسا کہ وہ نازل کیا گیا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ابنِ امِ عبد (عبد اللہ بن مسعود) کی قرات کے مطابق پڑھے۔“ علقمہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میرا گمان یہ ہے کہ ان کے نزدیک علقمہ بن قیس کا سیدنا عمر سے سماع ثابت نہیں ہے، واللہ اعلم۔ اور اس کی ایک مفصل شاہد روایت سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، ابن أبي دارم - وإن كان متكلَّمًا فيه - قد توبع، فسيأتي من غير طريقه عن
مصعب بن المقدام عند المصنف برقم (5476)، وهو قطعة من الحديث السابق، وانظر تخريجه فيه.
درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے۔ ابن ابی دارم پر اگرچہ کلام کیا گیا ہے لیکن ان کی "متابعت" موجود ہے۔ چنانچہ یہ مصعب بن المقدام سے دوسرے طریق سے مصنف کے ہاں نمبر (5476) پر آئے گی۔ یہ سابقہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے، وہاں اس کی تخریج دیکھیں۔
(1) قد ثبت - كما تقدم - أنَّ علقمة بن قيس النخعي لم يسمع هذا الحديث من عمر، وقد نقل العلائي في "جامع التحصيل": أنَّ أحمد بن حنبل سُئل: هل سمع علقمة من عمر؟ فقال: ينكرون ذلك، قيل: من ينكره؟ قال: الكوفيون أصحابه.
فنی نکتہ (سماع): جیسا کہ گزر چکا، یہ ثابت ہے کہ علقمہ بن قیس النخعی نے یہ حدیث عمر سے نہیں سنی۔ علائی نے "جامع التحصیل" میں نقل کیا ہے کہ احمد بن حنبل سے پوچھا گیا: کیا علقمہ نے عمر سے سنا ہے؟ فرمایا: "وہ (محدثین) اس کا انکار کرتے ہیں۔" پوچھا گیا: کون انکار کرتا ہے؟ فرمایا: "کوفی، جو ان کے ساتھی ہیں۔"
مصعب بن المقدام عند المصنف برقم (5476)، وهو قطعة من الحديث السابق، وانظر تخريجه فيه.
درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے۔ ابن ابی دارم پر اگرچہ کلام کیا گیا ہے لیکن ان کی "متابعت" موجود ہے۔ چنانچہ یہ مصعب بن المقدام سے دوسرے طریق سے مصنف کے ہاں نمبر (5476) پر آئے گی۔ یہ سابقہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے، وہاں اس کی تخریج دیکھیں۔
(1) قد ثبت - كما تقدم - أنَّ علقمة بن قيس النخعي لم يسمع هذا الحديث من عمر، وقد نقل العلائي في "جامع التحصيل": أنَّ أحمد بن حنبل سُئل: هل سمع علقمة من عمر؟ فقال: ينكرون ذلك، قيل: من ينكره؟ قال: الكوفيون أصحابه.
فنی نکتہ (سماع): جیسا کہ گزر چکا، یہ ثابت ہے کہ علقمہ بن قیس النخعی نے یہ حدیث عمر سے نہیں سنی۔ علائی نے "جامع التحصیل" میں نقل کیا ہے کہ احمد بن حنبل سے پوچھا گیا: کیا علقمہ نے عمر سے سنا ہے؟ فرمایا: "وہ (محدثین) اس کا انکار کرتے ہیں۔" پوچھا گیا: کون انکار کرتا ہے؟ فرمایا: "کوفی، جو ان کے ساتھی ہیں۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2930 سے ماخوذ ہے۔