کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: مکاتب جتنا آزاد ہو چکا ہو اس کے حساب سے آزاد کی طرح ادا کرے گا اور جتنا غلام باقی ہو اس کے حساب سے غلام کی طرح
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي وعلي بن عبد العزيز، قالا: حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كَثير، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ: "يُودَى المكاتَبُ بقَدْر ما عَتَقَ منه بحِسابِ الحُرِّ، وما رَقَّ فبِحسابِ العَبدِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکاتب (غلام) کی دیت اس کی آزادی کی شرح کے مطابق آزاد (انسان) کے حساب سے ادا کی جائے گی، اور جتنی غلامی باقی ہے اس کا حساب غلام کے مطابق ہوگا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أيوب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال: "إذا أصاب المُكاتَبُ حَدًّا، أو وَرِثَ ميراثًا، فإنه يَرِثُ بقَدْر ما عَتَقَ، ويُقامُ عليه بقَدْر ما عَتَقَ منه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2866 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2866 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب مکاتب غلام پر کوئی حد لازم آئے یا اسے کوئی وراثت ملے، تو اسے اپنی آزادی کی شرح کے مطابق وراثت ملے گی اور اسی قدر (آزادی کے تناسب سے) اس پر حد قائم کی جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، قال: حدثني نَبْهان مُكَاتَبُ أم سَلَمة، قال: إني لأقودُ بها بالبَيداء - أو بالأبْواء - قالت: مَن هذا؟ فقلت: أنا نَبْهان، فقالت: إني قد تركتُ بقيّة مُكاتَبتِك لابن أخي محمد بن عبد الله بن أبي أُميّة، أُعِينُه به في نكاحه، قال: فقلت: لا والله، لا أؤدّيه أبدًا، قالت: إن كان إنما بك أن تَدخُل عليَّ أو تَراني، فوالله لا تَراني أبدًا، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إذا كان عند المُكاتَب ما يُؤدِّي، فاحتجِبي منه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2867 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2867 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مقام بیداء یا ابواء میں ان کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نبھان ہوں، انہوں نے فرمایا: میں نے تمہاری مکاتبت کی بقایا رقم اپنے بھتیجے محمد بن عبد اللہ بن ابی امیہ کے لیے چھوڑ دی ہے تاکہ اس کے نکاح میں اس کی مدد ہو سکے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ہرگز ادا نہیں کروں گا، انہوں نے فرمایا: اگر تمہارا مقصد (رقم نہ دے کر) میرے پاس آنا یا مجھے دیکھنا ہے تو اللہ کی قسم تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکو گے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب مکاتب کے پاس ادائیگی کے لیے (مال) موجود ہو تو اس سے پردہ کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن عبد الله بن وهب، عن تَميم الداري، أنه قال: يا رسول الله، الرجلُ من المشركين يُسلِم على يَدَي الرجلِ المُسلمِ، قال: "هو أَولى به في حياتِه ومَماتِه" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وعبد الله بن وهب بن زَمْعة (1) مشهور. وشاهدُه عن تَميم الداري حديث قَبيصة بن ذُؤيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2868 - هذا ما خرج له إلا ابن ماجة فقط ثم هو وهم من الحاكم ثان فإن ابن زمعة لم يرو عن تميم الدارمي وصوابه عبد الله بن موهب
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وعبد الله بن وهب بن زَمْعة (1) مشهور. وشاهدُه عن تَميم الداري حديث قَبيصة بن ذُؤيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2868 - هذا ما خرج له إلا ابن ماجة فقط ثم هو وهم من الحاكم ثان فإن ابن زمعة لم يرو عن تميم الدارمي وصوابه عبد الله بن موهب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مشرکین میں سے کوئی شخص کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لے (تو اس کا حکم کیا ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنی زندگی اور موت میں اسی (مسلمان) کا زیادہ حقدار ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبد اللہ بن وہب بن زمعہ مشہور راوی ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبد اللہ بن وہب بن زمعہ مشہور راوی ہیں۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو مُسهِر عبد الأعلى بن مُسهِر الغسّاني، حدثني يحيى بن حمزة الحَضْرمي، حدثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، حدثنا عبد الله بن وهب القُرشي، عن قَبيصة بن ذُؤيب، عن تَميم الداري، قال: سألت رسول الله ﷺ عن الرجلِ يُسلِمُ على يَدَي الرجل، فقال: "هو أَولى الناس بمَحْياهُ ومَماتِه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو کسی دوسرے کے ہاتھ پر اسلام لائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنی زندگی اور موت میں سب سے زیادہ اسی کا حقدار ہے۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى الشهيد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيَّة، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن محمد بن جُبير، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عَوْف، قال: قال رسول الله ﷺ: "شَهِدتُ غلامًا مع عُمومتي حِلفَ المُطيَّبين، فما يَسُرُّني أنَّ لي حُمْرَ النَّعَمِ وإني أَنكُثُه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2870 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2870 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں لڑکپن میں اپنے چچاؤں کے ساتھ ”حلف المطیبین“ (خوشبو والوں کے معاہدے) میں شریک تھا، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس سرخ اونٹ ہوں اور میں اس معاہدے کو توڑ دوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا زكريا بن أبي زائدة، عن سعد بن إبراهيم، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا حِلفَ في الإسلام، وأيُّما حِلْفٍ كان في الجاهلية لم يَزِدْه الإسلامُ إلّا شِدّةً" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! ﷽ [كتاب التفسير] قد بَدَأْنا في هذا الكتاب بنزول القرآن، وما رُوِيَ في المسند من القراءات، وذِكْر الصحابة الذين جَمَعَوا القرآن وحَفِظُوه، هذا قبلَ تفسير السُّوَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2871 - على شرط البخاري ومسلم
كِتَابُ التَّفْسِيرِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَدْ بَدَأْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ بِنُزُولِ الْقُرْآنِ، فِي مَا رُوِيَ فِي الْمُسْنَدِ مِنَ الْقِرَاءَاتِ، وَذِكْرِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ جَمَعُوا الْقُرْآنَ وَحَفِظُوهُ، هَذَا قَبْلَ تَفْسِيرِ. السُّوَرِ»
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! ﷽ [كتاب التفسير] قد بَدَأْنا في هذا الكتاب بنزول القرآن، وما رُوِيَ في المسند من القراءات، وذِكْر الصحابة الذين جَمَعَوا القرآن وحَفِظُوه، هذا قبلَ تفسير السُّوَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2871 - على شرط البخاري ومسلم
كِتَابُ التَّفْسِيرِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَدْ بَدَأْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ بِنُزُولِ الْقُرْآنِ، فِي مَا رُوِيَ فِي الْمُسْنَدِ مِنَ الْقِرَاءَاتِ، وَذِكْرِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ جَمَعُوا الْقُرْآنَ وَحَفِظُوهُ، هَذَا قَبْلَ تَفْسِيرِ. السُّوَرِ»
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں کوئی (نیا جاہلانہ) معاہدہ نہیں ہے، اور دورِ جاہلیت کا جو بھی (خیر پر مبنی) معاہدہ تھا، اسلام نے اسے مزید استحکام ہی بخشا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! بسم اللہ الرحمن الرحیم [کتاب التفسیر] ہم اس کتاب کا آغاز قرآن کے نزول، مسند میں منقول قرآتوں اور ان صحابہ کے ذکر سے کر رہے ہیں جنہوں نے قرآن کو جمع کیا اور اسے حفظ کیا، یہ سورتوں کی تفسیر سے پہلے کا حصہ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! بسم اللہ الرحمن الرحیم [کتاب التفسیر] ہم اس کتاب کا آغاز قرآن کے نزول، مسند میں منقول قرآتوں اور ان صحابہ کے ذکر سے کر رہے ہیں جنہوں نے قرآن کو جمع کیا اور اسے حفظ کیا، یہ سورتوں کی تفسیر سے پہلے کا حصہ ہے۔