حدیث نمبر: 2907
أخبرنا علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا زكريا بن أبي زائدة، عن سعد بن إبراهيم، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا حِلفَ في الإسلام، وأيُّما حِلْفٍ كان في الجاهلية لم يَزِدْه الإسلامُ إلّا شِدّةً" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! ﷽ [كتاب التفسير] قد بَدَأْنا في هذا الكتاب بنزول القرآن، وما رُوِيَ في المسند من القراءات، وذِكْر الصحابة الذين جَمَعَوا القرآن وحَفِظُوه، هذا قبلَ تفسير السُّوَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2871 - على شرط البخاري ومسلم
كِتَابُ التَّفْسِيرِ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَدْ بَدَأْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ بِنُزُولِ الْقُرْآنِ، فِي مَا رُوِيَ فِي الْمُسْنَدِ مِنَ الْقِرَاءَاتِ، وَذِكْرِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ جَمَعُوا الْقُرْآنَ وَحَفِظُوهُ، هَذَا قَبْلَ تَفْسِيرِ. السُّوَرِ»
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں کوئی (نیا جاہلانہ) معاہدہ نہیں ہے، اور دورِ جاہلیت کا جو بھی (خیر پر مبنی) معاہدہ تھا، اسلام نے اسے مزید استحکام ہی بخشا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! بسم اللہ الرحمن الرحیم [کتاب التفسیر] ہم اس کتاب کا آغاز قرآن کے نزول، مسند میں منقول قرآتوں اور ان صحابہ کے ذکر سے کر رہے ہیں جنہوں نے قرآن کو جمع کیا اور اسے حفظ کیا، یہ سورتوں کی تفسیر سے پہلے کا حصہ ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المكاتب / حدیث: 2907
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، ويرويه سعد بن إبراهيم» [ترقيم الرساله 2907] [ترقيم الشركة 2889] [ترقيم العلميه 2871]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. ويرويه سعد بن إبراهيم - وهو ابن عبد الرحمن بن عوف - عن أبيه أيضًا عن جبير بن مُطعِم.
درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسے سعد بن ابراہیم (ابن عبدالرحمن بن عوف) اپنے والد سے اور وہ جبیر بن مطعم سے بھی روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه النسائي (6385)، وابن حبان (4372) من طريق إسحاق بن يوسف الأزرق، عن زكريا بن أبي زائدة، به.

وأخرجه أحمد 27/ (16761)، ومسلم (2530)، وأبو داود (2925) من طريق عبد الله بن نُمير وأبي أسامة حماد بن أسامة، وأبو داود (2925) من طريق محمد بن بشر، وابن حبان (4371) من طريق يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، أربعتهم عن زكريا بن أبي زائدة، عن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن جبير بن مُطعم.

حوالہ جات: اسے نسائی (6385) اور ابن حبان (4372) نے اسحاق بن یوسف الازرق عن زکریا بن ابی زائدہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
متابعات: نیز اسے احمد (27/ 16761)، مسلم (2530)، اور ابوداود (2925) نے عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ حماد بن اسامہ کے طریق سے؛ ابوداود (2925) نے محمد بن بشر کے طریق سے؛ اور ابن حبان (4371) نے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ چاروں زکریا بن ابی زائدہ عن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف عن ابیہ عن جبیر بن مطعم روایت کرتے ہیں۔
قال النووي: المراد بقوله: "لا حِلف في الإسلام": حلف التوارُث والحلف على ما منع الشرعُ منه.
تشریح (نووی): امام نووی فرماتے ہیں کہ "اسلام میں کوئی حلف نہیں" سے مراد جاہلیت والا "وراثت کا حلف" اور ان چیزوں پر حلف اٹھانا ہے جن سے شریعت نے منع کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2907 سے ماخوذ ہے۔