کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مکاتبت (آزادی کے معاہدے) کا واقعہ
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحَسَن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم بن سليمان وعلي بن زيد (2)، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن سلمان، قال: كاتبتُ أهلي على أن أغرِسَ لهم خمسَ مئة فَسِيلةٍ، فإذا عَلِقَتْ فأنا حُرٌّ، فأتيتُ النبي ﷺ فذكرتُ ذلك له، فقال: "اغرِسْ، واشترِط لهم، فإذا أردتَ أن تَغرِسَ فآذِنِّي"، فجاء فجعل يَغرِس، إلّا واحدةً غَرَستُها بيدي، فعَلِقَت جميعًا إلّا الواحدةَ (1).
هذا حديث صحيح من حديث عاصم بن سليمان الأحول على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2862 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح من حديث عاصم بن سليمان الأحول على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2862 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالکان سے اس شرط پر مکاتبت کی کہ میں ان کے لیے پانچ سو کھجور کے پودے لگاؤں گا، جب وہ جڑ پکڑ لیں گے تو میں آزاد ہو جاؤں گا، میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پودے لگاؤ اور ان سے (کامیابی کی) شرط کر لو، اور جب تم پودے لگانے کا ارادہ کرو تو مجھے اطلاع دینا“، چنانچہ آپ ﷺ تشریف لائے اور پودے لگانے لگے، سوائے ایک پودے کے جو میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا، وہ سب کے سب ہرا ہو گئے (جڑ پکڑ لی) سوائے اس ایک پودے کے۔
عاصم بن سلیمان احول کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
عاصم بن سلیمان احول کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا ميمون بن إسحاق الهاشمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثنا همَّام، عن عباس الجُريري، حدثنا عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ: "أيُّما مُكاتَبٍ كُوتِبَ على ألف أُوقيّة فأدّاها إلّا عشرَ أَواقٍ، فهو عبدٌ، وأيُّما مُكاتَبٍ كُوتِب على مئة دينارٍ فأدّاها إلّا عشرةَ دنانير، فهو عبدٌ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2863 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2863 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس مکاتب غلام سے ایک ہزار اوقیہ پر معاہدہ ہوا اور اس نے سوائے دس اوقیہ کے سب ادا کر دیا، تو وہ (ابھی تک) غلام ہی ہے، اور جس مکاتب سے سو دینار پر معاہدہ ہوا اور اس نے سوائے دس دینار کے سب ادا کر دیا، تو وہ (بھی) غلام ہی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلْمان بن الحسن الفقيه إملاءً ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم البَزّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا علي بن المُبارك، عن يحيى بن أبي كثير، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قضَى رسولُ الله ﷺ في المكاتَب أن يُقتَلَ بدِيَةِ الحُرّ على قَدْر ما أَدَّى منه (1). قال يحيى: قال عِكْرمة عن ابن عباس: يُقام عليه حدُّ المَملُوك (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2864 - تابعه أبان على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2864 - تابعه أبان على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب غلام کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ اسے آزاد مرد کی دیت کے مطابق (خون بہا) دیا جائے گا اس قدر جتنا اس نے (بدلِ کتابت) ادا کر دیا ہو۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ (ایسے شخص پر) غلام والی حد نافذ کی جائے گی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔