أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا جرير بن حازم، عن الزُّبَير بن سعيد، عن عبد الله بن علي بن يزيد بن رُكَانة، عن جده (2) رُكانة بن عبد يَزيد: أنه طلَّق امرأتَه البَتّةَ على عهد النبيّ ﷺ، قال: فسألتُ النبيَّ ﷺ عن ذلك، فقال: "ما أردتَ بذلك؟ " قال: أردتُ به واحدةً، قال: "آللهِ"، قال: آللهِ، قال: "فهو ما أردتَ" (3). قد انحرف الشيخان عن الزُّبَير بن سعيد الهاشمي في "الصحيحين"، غير أنَّ لهذا الحديث متابعًا من بيت رُكانة بن عبد يَزيد المُطَّلبي، فيَصحُّ به الحديثُ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2807 - قد انحرف في الصحيحين عن الزبير بن سعيد لكن له متابعا يصح به الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2807 - قد انحرف في الصحيحين عن الزبير بن سعيد لكن له متابعا يصح به الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں اپنی بیوی کو «البته» (یعنی قطعی اور حتمی طور پر) طلاق دے دی، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہاری اس سے کیا نیت تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: میری نیت صرف ایک طلاق کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اللہ کی قسم (ایک ہی مراد تھی)؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وہی ہے جس کی تم نے نیت کی تھی۔“
اگرچہ شیخین نے اپنی صحیحین میں زبیر بن سعید ہاشمی کی روایت سے انحراف کیا ہے، تاہم اس حدیث کا خاندانِ رکانہ بن عبد یزید سے ایک متابع موجود ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو جاتی ہے۔
اگرچہ شیخین نے اپنی صحیحین میں زبیر بن سعید ہاشمی کی روایت سے انحراف کیا ہے، تاہم اس حدیث کا خاندانِ رکانہ بن عبد یزید سے ایک متابع موجود ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو جاتی ہے۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرني عَمِّي محمد بن علي بن شافِع [عن عبد الله بن علي بن السائب] (1) عن نافع بن عُجَير بن عبدِ يزيد: أنَّ رُكانةَ بن عبدِ يزيد طلَّق امرأتَه سُهَيمةَ البتّةَ، ثم أتى رسولَ الله ﷺ فقال: إني طلقتُ امرأتي سُهَيمة البتّةَ، ووالله ما أردتُ إلّا واحدةً، فردَّها إليه رسولُ الله ﷺ، فطلَّقها الثانيةَ في زمن عُمر، والثالثة في زمن عثمان (2). قد صحَّ الحديثُ بهذه الرواية، فإنَّ الإمام الشافعي قد أتقنَه، وحفِظه عن أهل بيتِه، والسائبُ بن عبد يزيد أبو الشافِع بن السائب، وهو أخو رُكانة بن عبد يزيد، ومحمدُ بن علي بن شافع عمُّ الشافعي شيخُ قريش في عصره.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
نافع بن عجیر بن عبد یزید سے روایت ہے کہ سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو «البته» طلاق دے دی، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں نے اپنی بیوی سہیمہ کو «البته» طلاق دی ہے اور اللہ کی قسم! میری مراد صرف ایک ہی طلاق تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے وہ بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے دوسری طلاق سیدنا عمر کے دور میں اور تیسری طلاق سیدنا عثمان کے دور میں دی۔
اس روایت کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے کیونکہ امام شافعی نے اسے انتہائی پختگی کے ساتھ اپنے اہل بیت سے یاد کر کے بیان کیا ہے، اور سائب بن عبد یزید (شافع بن سائب کے والد) رکانہ کے بھائی تھے، جبکہ محمد بن علی بن شافع جو امام شافعی کے چچا ہیں وہ اپنے زمانے میں قریش کے جلیل القدر بزرگ تھے۔
اس روایت کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے کیونکہ امام شافعی نے اسے انتہائی پختگی کے ساتھ اپنے اہل بیت سے یاد کر کے بیان کیا ہے، اور سائب بن عبد یزید (شافع بن سائب کے والد) رکانہ کے بھائی تھے، جبکہ محمد بن علی بن شافع جو امام شافعی کے چچا ہیں وہ اپنے زمانے میں قریش کے جلیل القدر بزرگ تھے۔