کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: بلا وجہ شوہر سے طلاق مانگنے کی کراہت
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي أسماء الرَّحَبي، عن ثوبان، قال: قال رسول الله ﷺ: "أيُّما امرأةٍ سألتْ زوجَها الطلاقَ من غير بأسٍ، حَرّم اللهُ عليها أن تَرِيحَ رائحةَ الجنة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2809 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی عورت نے بغیر کسی (شرعی) تکلیف یا شدید ضرورت کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو (تک) حرام کر دے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطلاق / حدیث: 2845
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أيوب: هو ابن أبي تَميمة السَّختِياني، وأبو قِلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرْمي، وأبو أسماء الرَّحَبي: هو عمرو بن مَرْثَد.» [ترقيم الرساله 2845] [ترقيم الشركة 2825] [ترقيم العلميه 2809]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: أسلمتِ امرأة على عهد النبي ﷺ، فتزوجتْ، فجاء زوجُها إلى رسول الله ﷺ فقال: إني قد أسلمتُ معها وعَلِمَت بإسلامي معها، فنزعَها رسولُ الله ﷺ مِن زوجها الآخِرِ ورَدَّها إلى زوجِها الأول (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وهو من النوع الذي أقولُ: إنَّ البخاري احتَّجَ بعِكْرمة، ومسلم بسِمَاك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2810 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک عورت اسلام لائی اور اس نے (دوسرا) نکاح کر لیا، پھر اس کا (پہلا) شوہر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں بھی اس کے ساتھ ہی اسلام لا چکا تھا اور وہ میرے اسلام لانے سے واقف تھی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اس کے دوسرے شوہر سے الگ کر دیا اور پہلے شوہر کو واپس لوٹا دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اس قسم کی روایت ہے جس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک سے احتجاج کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطلاق / حدیث: 2846
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كما قال ابنُ عبد البر في "التمهيد" 12/ 19، وسماك - وهو ابن حرب - وإن كان في روايته عن عكرمة اضطراب في الجملة، لم يُختلَف عليه في هذا الحديث، وقد مشى الترمذي وابن الجارود وابن خزيمة وابن حبان والمصنِّفُ وغيرهم على تصحيح حديثه عن ...» [ترقيم الرساله 2846] [ترقيم الشركة 2826] [ترقيم العلميه 2810]
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن إسحاق، عن داود بن الحُصَين، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: رَدَّ النبيُّ ﷺ ابنتَه زينب على زوجها أبي العاص بن الربيع بالنكاح الأول، ولم يُحدِثْ شيئًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2811 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن ربیع کی طرف پہلے نکاح پر ہی لوٹا دیا اور کوئی نیا (نکاح یا مہر) نہیں کیا تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطلاق / حدیث: 2847
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وقد صرَّح محمد بن إسحاق بسماعه فيما سيأتي برقم (5109) و (7018)- فانتفت شبهة تدليسه. وقد صحَّح الإمامُ أحمد هذا الحديث في "المسند" بإثر الحديث (6938)، وقال الترمذي (1143): ليس بإسناده بأس.» [ترقيم الرساله 2847] [ترقيم الشركة 2827] [ترقيم العلميه 2811]