کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو زكريا يحيى بن عثمان بن صالح بن صفوان السَّهْمي بمصر، حدثنا أبي، قال: سمعتُ الليث بن سعد، في المسجد الجامع يقول: قال أبو مصعب مِشرَحُ بن هاعانَ: قال عُقْبة بن عامر الجُهَني: قال رسول الله ﷺ: "ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعارِ؟ "، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: "هو المُحِلُّ، فلعنَ اللهُ المُحِلَّ والمُحَلَّلَ له" (2). وقد ذكر أبو صالح كاتب الليث عن الليث سماعَه من مِشرَحِ بن هاعان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2804 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ادھار لیے ہوئے سانڈ (کرائے کے مینڈھے) کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ حلالہ کرنے والا (محلل) ہے، اللہ تعالیٰ حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائے۔“
لیث کے کاتب ابوصالح نے ذکر کیا ہے کہ لیث نے اسے مشرح بن هاعان سے سنا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطلاق / حدیث: 2840
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره دون ذكر التشبيه بالتيس المستعار
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون ذكر التشبيه بالتيس المستعار، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن جزمِ يحيى بن عبد الله بن بكير فيما نقله عنه أبو زرعة الرازي كما في "العلل" لابن أبي حاتم (1233) بأنَّ الليث لم يسمع هذا الحديث من مشرح، وأنه لم يرو عنه شيئًا، وأنَّ الليث حدثه ...» [ترقيم الرساله 2840] [ترقيم الشركة 2820] [ترقيم العلميه 2804]
أخبرَنيهِ أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أبو صالح، حدثنا الليث بن سعد، قال: سمعت مِشرَحَ بن هاعان يحدِّث عن عُقبة بن عامر، قال: قال رسول الله ﷺ: "ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعار؟ هو المُحِلُّ"، ثم قال رسول الله ﷺ: "لَعَنَ الله المُحِلَّ والمُحلَّلَ له (1) " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ادھار لیے ہوئے سانڈ (یعنی کرائے کے مینڈھے) کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ حلالہ کرنے والا (محلل) ہے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے (محلل لہ)، دونوں پر لعنت فرمائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطلاق / حدیث: 2841
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره كسابقه
تخریج حدیث «صحيح لغيره كسابقه، وما وقع من تصريح الليث هنا بسماعه من مِشْرح فيه نظر، لما قدّمنا بيانه في الطريق السابقة من نفي يحيى بن عبد الله بن بكير أن يكون الليث سمع من مشرح شيئًا وأنَّ الليث إنما حدثه بهذا الحديث عن سليمان بن عبد الرحمن مرسلًا، ويحيى هذا أوثق ...» [ترقيم الرساله 2841] [ترقيم الشركة 2821]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا أبو غسان محمد بن مُطرِّف المدني، عن عمر بن نافع، عن أبيه، أنه قال: جاء رجل إلى ابن عمر، فسأله عن رجل طلَّق امرأتَه ثلاثًا، فتزوجها أخٌ له عن غير مُؤامَرة منه، لِيُحلَّها لأخيه: هل تَحِلُّ للأول؟ قال: لا، إلّا نِكاحَ رَغبةٍ، كنا نَعُدُّ هذا سِفاحًا على عهد رسول الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2806 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس کے بھائی نے کسی (پہلے سے طے شدہ) مشورے کے بغیر محض اس نیت سے اس عورت سے نکاح کر لیا تاکہ اسے اپنے بھائی کے لیے حلال کر دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، سوائے اس کے کہ وہ رغبت کا (حقیقی) نکاح ہو، ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایسے کام کو زنا (سفاح) شمار کرتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطلاق / حدیث: 2842
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وجوَّد إسناده الإمام ابن تيمية كما في "الفتاوى الكبرى" 6/ 242.» [ترقيم الرساله 2842] [ترقيم الشركة 2822] [ترقيم العلميه 2806]