کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جبر کی حالت میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے نہ غلام آزاد ہوتا ہے
حدثنا الأستاذ الإمام أبو الوليد حسان بن محمد القرشي، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن ثَور بن يَزيد، عن محمد بن عُبيد بن أبي صالح، قال: بعثني عَدِيّ بن عَدِيّ إلى صفيّة بنت شَيْبة أسألُها عن أشياءَ كانت ترويها عن عائشة، فقالت: حدثتني عائشةُ، أنها سمعت رسولَ الله ﷺ يقول: "لا طلاقَ ولا عَتاقَ في إغلاقٍ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبو صفوان الأُموي محمدَ بن إسحاق على روايته عن ثَوْر بن يزيد، فأسقط من الإسناد محمد بن عُبيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2802 - على شرط مسلم كذا قال يعني الحاكم قلت ومحمد بن عبيد لم يحتج به مسلم وقال أبو حاتم ضعيف
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبو صفوان الأُموي محمدَ بن إسحاق على روايته عن ثَوْر بن يزيد، فأسقط من الإسناد محمد بن عُبيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2802 - على شرط مسلم كذا قال يعني الحاكم قلت ومحمد بن عبيد لم يحتج به مسلم وقال أبو حاتم ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”انتہائی غصے یا جبر و اکراہ کی حالت (اِغلاق) میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ ہی غلام آزاد ہوتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابوصفوان اموی نے محمد بن اسحاق کی متابعت کی ہے لیکن سند سے محمد بن عبید کا نام گرا دیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابوصفوان اموی نے محمد بن اسحاق کی متابعت کی ہے لیکن سند سے محمد بن عبید کا نام گرا دیا ہے۔
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا نُعيم بن حماد، حدثنا أبو صفوان عبد الله بن سعيد الأُموي، عن ثَوْر بن يزيد، عن صفيّة بنت شَيْبة، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال: "لا طَلاقَ ولا عَتاقَ في إغلاقٍ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2803 - نعيم صاحب مناكير
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2803 - نعيم صاحب مناكير
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اِغلاق (سخت غصے یا زبردستی) کی حالت میں نہ طلاق ہے اور نہ ہی آزادی (عتاق)۔“