أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أفادَ أحدُكم الجاريةَ أو المرأةَ أو الدابَّة، فليأخُذ بناصيَتِها وليَدْعُ بالبَرَكة، وليقل: اللهم إني أسألك خيرَها وخير ما جُبِلَتْ عليه، وأعوذ بك من شَرِّها وشَرِّ ما جُبِلَتْ عليه، وإن كان بعيرًا فليأخُذ بذِرْوةِ سَنامِه" (2).
هذا حديث صحيح على ما ذَكَرناه من روايات الأئمة الثقات عن عمرو بن شُعيب، ولم يُخرجاه عن عمرو في الكتابَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2757 - صحيح
هذا حديث صحيح على ما ذَكَرناه من روايات الأئمة الثقات عن عمرو بن شُعيب، ولم يُخرجاه عن عمرو في الكتابَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2757 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی لونڈی، بیوی یا سواری کا جانور حاصل کرے تو اسے اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑے اور برکت کی دعا مانگے، اور یہ کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر اور اس کی اس فطرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس پر تو نے اسے پیدا کیا ہے، اور میں اس کے شر اور اس کی اس فطرت کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس پر تو نے اسے پیدا کیا ہے۔“ اور اگر وہ اونٹ ہو تو اس کی کوہان کی چوٹی کو پکڑے۔“
یہ حدیث ان روایات کے مطابق صحیح ہے جو ثقہ ائمہ نے عمرو بن شعیب سے نقل کی ہیں، مگر شیخین نے اپنی کتب میں اسے عمرو (بن شعیب) کے واسطے سے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث ان روایات کے مطابق صحیح ہے جو ثقہ ائمہ نے عمرو بن شعیب سے نقل کی ہیں، مگر شیخین نے اپنی کتب میں اسے عمرو (بن شعیب) کے واسطے سے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا حمّاد (1) بن سَلَمة، عن سعيد بن جُمْهان، عن سَفِينة: أنَّ عليًّا أضافَ رجلًا وصنع له طعامًا، فقال: لو دَعَونا رسولَ الله ﷺ فأكَلَ معنا، فدعَوَا رسولَ الله ﷺ، فجاء فرأى فِراشًا (2) قد ضُرِب في ناحيةِ البَيت فرجَعَ، فقالت فاطمةُ: ارجِعْ فقل له: ما رَجَعَكَ يا رسول الله؟ فذهب، فقال رسول الله ﷺ: "ليس لنبيٍّ أن يدخُلَ بيتًا مُزوَّقًا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2758 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2758 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی دعوت کی اور اس کے لیے کھانا تیار کیا، پھر انہوں نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: کاش ہم رسول اللہ ﷺ کو بھی مدعو کر لیتے اور وہ ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بلایا، آپ ﷺ تشریف لائے لیکن گھر کے ایک گوشے میں سجا ہوا دیدہ زیب پردہ (یا نقش و نگار والا کپڑا) دیکھ کر واپس مڑ گئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (سیدنا علی سے) کہا: آپ پیچھے جائیں اور عرض کریں کہ اے اللہ کے رسول! آپ کس وجہ سے واپس تشریف لے گئے؟ (جب انہوں نے پوچھا تو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ ایسے گھر میں داخل ہو جو (دنیاوی زیب و زینت سے) سجایا گیا ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔