حدیث نمبر: 2792
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا أفادَ أحدُكم الجاريةَ أو المرأةَ أو الدابَّة، فليأخُذ بناصيَتِها وليَدْعُ بالبَرَكة، وليقل: اللهم إني أسألك خيرَها وخير ما جُبِلَتْ عليه، وأعوذ بك من شَرِّها وشَرِّ ما جُبِلَتْ عليه، وإن كان بعيرًا فليأخُذ بذِرْوةِ سَنامِه" (2).
هذا حديث صحيح على ما ذَكَرناه من روايات الأئمة الثقات عن عمرو بن شُعيب، ولم يُخرجاه عن عمرو في الكتابَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2757 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی لونڈی، بیوی یا سواری کا جانور حاصل کرے تو اسے اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑے اور برکت کی دعا مانگے، اور یہ کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر اور اس کی اس فطرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس پر تو نے اسے پیدا کیا ہے، اور میں اس کے شر اور اس کی اس فطرت کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس پر تو نے اسے پیدا کیا ہے۔“ اور اگر وہ اونٹ ہو تو اس کی کوہان کی چوٹی کو پکڑے۔“
یہ حدیث ان روایات کے مطابق صحیح ہے جو ثقہ ائمہ نے عمرو بن شعیب سے نقل کی ہیں، مگر شیخین نے اپنی کتب میں اسے عمرو (بن شعیب) کے واسطے سے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2792
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن. ابن عجلان: هو محمد
تخریج حدیث «إسناده حسن. ابن عجلان: هو محمد، ويحيى بن سعيد: هو القطان، وأخرجه النسائي (9998) عن عمرو بن علي الفلّاس، عن يحيى القطان، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2792] [ترقيم الشركة 2773] [ترقيم العلميه 2757]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن. ابن عجلان: هو محمد، ويحيى بن سعيد: هو القطان.

وأخرجه النسائي (9998) عن عمرو بن علي الفلّاس، عن يحيى القطان، بهذا الإسناد.

درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (سند میں موجود) ابن عجلان سے مراد "محمد بن عجلان" ہیں، اور یحییٰ بن سعید سے مراد "یحییٰ القطان" ہیں۔
حوالہ / مصدر: اور اسے نسائی (9998) نے عمرو بن علی الفلاس سے، انہوں نے یحییٰ القطان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2160)، وابن ماجه (1918)، و (2252) من طريقين عن ابن عجلان، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2160) اور ابن ماجہ (1918، 2252) نے ابن عجلان سے دو مختلف طریقوں سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
قوله: "جُبِلت عليه" أي: خُلِقت وطُبعت عليه من الأخلاق.
نوٹ / توضیح: آپ ﷺ کے فرمان "جُبِلت عليه" کا مطلب ہے: جس اخلاق پر اسے پیدا کیا گیا اور جو اس کی طبیعت میں شامل کر دیا گیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2792 سے ماخوذ ہے۔