حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد الأَدَمي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن الحسن الهاشمي، حدثنا يزيد بن هارون. وأخبرني أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا عبد الله بن أبي شَيْبة وزهير بن حَرْب، قالا: حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الله بن عَوْن، عن ابن سِيرين، عن أبي العَجْفاء السُّلَمي، قال: خَطَبَنا عمرُ بن الخطّاب فقال: ألا لا تُغالُوا صُدُقَ النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً في الدنيا أو تقوى عند الله كان أَوْلاكم بها وأحقَّكم بها محمدٌ ﷺ، ما أصْدَقَ امرأةً من نسائه أكثرَ من ثِنتَي عشرةَ أُوقيّةً، وإن أحدَكم ليُغْلي بصَدُقةِ امرأتِه، حتى يكون لها عداوةٌ في نفسِه، ويقول: قد كَلِفْتُ إليك عَلَقَ (1) القِرْبة. وأخرى تقولونها لمن قُتل في مغازيكم هذه لو ماتَ: قُتِلَ فلان شهيدًا، ومات فلان شهيدًا، وعسى أن يكون قد أَثقَلَ عَجُزَ دابّته أو دفَّ راحلتِه (2) ذهبًا ووَرِقًا يبتغي الدنيا، فلا تقولوا ذلك، ولكن قولوا كما قال رسول الله ﷺ: "مَن قُتِل أو مات في سبيل الله، فهو في الجنّة" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيوب السَّخْتياني وحبيب بن الشَّهيد (1) وهشام بن حسّان وسلَمة بن علقمة (2) ومنصور بن زاذان وعوف بن أبي جَميلة (3) ويحيى بن عَتيق، كلُّ هذه التراجم من رواياتٍ صحيحةٍ عن محمد بن سِيرين. وأبو العَجْفاء السُّلَمي اسمه هَرِم بن حيّان، وهو من الثِّقات.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيوب السَّخْتياني وحبيب بن الشَّهيد (1) وهشام بن حسّان وسلَمة بن علقمة (2) ومنصور بن زاذان وعوف بن أبي جَميلة (3) ويحيى بن عَتيق، كلُّ هذه التراجم من رواياتٍ صحيحةٍ عن محمد بن سِيرين. وأبو العَجْفاء السُّلَمي اسمه هَرِم بن حيّان، وهو من الثِّقات.
حافظ طلحہ بابر
ابوالعجفاء سلمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”خبردار! عورتوں کے مہروں میں مبالغہ نہ کرو (بہت زیادہ مہر مقرر نہ کرو)، کیونکہ اگر یہ دنیا میں کوئی بزرگی یا اعزاز کی بات ہوتی یا اللہ کے ہاں تقویٰ کی علامت ہوتی تو تم سب کی نسبت محمد ﷺ اس کے زیادہ حقدار اور موزوں ہوتے، حالانکہ آپ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا۔ اور یقیناً ایک آدمی اپنی بیوی کا مہر (اتنا زیادہ) مہنگا کر دیتا ہے کہ اس کے دل میں اس (بیوی) کے لیے دشمنی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ (اپنے آپ سے) کہنے لگتا ہے کہ میں نے تیری خاطر اپنی مشک کا تسمہ کھینچ کھینچ کر (یعنی سخت محنت و مشقت کر کے) بوجھ اٹھایا ہے۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا:) ”اور ایک دوسری بات جو تم اپنی ان جنگوں میں قتل ہونے والوں کے بارے میں کہتے ہو کہ 'فلاں شہید مارا گیا' یا 'فلاں شہید ہو کر مرا'، حالانکہ ہو سکتا ہے کہ اس نے دنیا کی طلب میں اپنے جانور کے پچھلے حصے یا سواری کے زین کو سونے اور چاندی سے لاد رکھا ہو، لہٰذا تم ایسا نہ کہا کرو، بلکہ وہی کہو جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا یا مر گیا، وہ جنت میں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اسے ایوب سختیانی، حبیب بن شہید، ہشام بن حسان، سلمہ بن علقمہ، منصور بن زاذان، عوف بن ابی جمیلہ اور یحییٰ بن عتیق، ان سب نے محمد بن سیرین سے صحیح روایات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ابوالعجفاء سلمی کا نام ہرم بن حیان ہے اور وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اسے ایوب سختیانی، حبیب بن شہید، ہشام بن حسان، سلمہ بن علقمہ، منصور بن زاذان، عوف بن ابی جمیلہ اور یحییٰ بن عتیق، ان سب نے محمد بن سیرین سے صحیح روایات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ابوالعجفاء سلمی کا نام ہرم بن حیان ہے اور وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں۔
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوري يقول: سمعت يحيى بن مَعين يقول: حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، قال: اسمُ أبي العَجْفاء هَرِم. وقد روي هذا الحديث من رواية مستقيمة عن سالم بن عبد الله ونافع عن ابن عمر. أما حديث سالم:
حافظ طلحہ بابر
عباس بن محمد دوری بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے سنا کہ عبدالرحمن بن مہدی نے کہا ہے کہ ابوالعجفاء کا نام «هَرِم» (ہرم) ہے۔ اس حدیث کو سالم بن عبداللہ اور نافع نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی ایک مستقیم روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔