کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اے لوگو! عورتوں کے مہروں میں غلو نہ کرو
فحدَّثَناه أبو الوليد الفقيه وأبو بكر بن عبد الله بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حدثنا عيسى بن ميمون، حدثنا سالم ونافع، عن ابن عمر: أنَّ عمر بن الخطاب خطب الناسَ فقال: يا أيها الناسُ، لا تُغالُوا مَهْر النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً لم يكن منكم أحدٌ أحقَّ بها ولا أَولَى مِن النبي ﷺ، ما أمْهَرَ أحدًا من نسائه ولا أصْدَقَ أحدًا من بناته أكثرَ من اثنتي عشرة أُوقيّةً. والأوقيّة أربعُون درهمًا - إلّا شيءٌ أصدَقَ عنه النجاشيُّ؛ أربعَ مئة دينار بأرض الحبشة (2). وأما حديث نافع:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! عورتوں کے مہر میں مبالغہ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ (دنیا میں) کوئی شرافت کی بات ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی اس کا نبی ﷺ سے زیادہ حقدار اور موزوں نہ ہوتا، (حقیقت یہ ہے کہ) آپ ﷺ نے اپنی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا۔“ اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، سوائے اس مہر کے جو نجاشی نے حبشہ کی سرزمین پر آپ ﷺ کی طرف سے (سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے لیے) چار سو دینار ادا کیا تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2760
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عيسى بن ميمون» [ترقيم الرساله 2760] [ترقيم الشركة 2742]
فأخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا الحسين بن عبد الله بن شاكر، حدثنا أبو حُمَة، حدثنا أبو قُرَّة، عن عبد العزيز بن أبي رَوَّاد وعبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ عمر بن الخطاب خطب الناس، ثم قال: أيها الناس، أقِلُّوا مُهور النساء، فإنَّ كثرة مُهورهن لو كان تقوى عند الله ومَكَرُمَةً في الدنيا؛ كان أَولاكُم بذلك رسولُ الله ﷺ، ما علِمنا أعطى رسولُ الله ﷺ امرأةً من نسائه أكثرَ من اثنتي عشرة أُوقيّةً - والوُقيّة أربعون درهمًا، فذلك ثمانون وأربعُ مئة درهم - وذلك أعلى ما كان رسول الله ﷺ أمْهَرَ، فلا أعْلمَنَّ أحدًا زاد على أربع مئة درهم (1). وقد رُويَ من وجه صحيح عن عبد الله بن عباس عن عمر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! عورتوں کے مہر (کی مقدار) کم رکھو، کیونکہ مہر کی زیادتی اگر اللہ کے نزدیک تقویٰ اور دنیا میں عزت و شرافت کا باعث ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اس کے سب سے زیادہ حقدار ہوتے، جبکہ ہمارے علم میں نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر دیا ہو، اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس طرح یہ (بارہ اوقیہ) چار سو اسی درہم بنتے ہیں، اور یہی وہ سب سے زیادہ مہر تھا جو رسول اللہ ﷺ نے دیا، لہذا میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں جس نے چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر کیا ہو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2761
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وهذا إسناد ضعيف من جهة عبد الله بن عمر - وهو العمري - لكنه من جهة ابن أبي رَوّاد لا بأس به، إلّا أنه اختُلف فيه عنه في وصله وإرساله، فقد رواه عنه أبو قُرَّة - وهو موسى بن طارق - موصولًا كما في هذا الإسناد، وخالف أبا قرة ...» [ترقيم الرساله 2761]
حدَّثَناه محمد بن مُظفَّر الحافظ، حدثنا أبو محمد بن صاعِد، حدثني محمد بن علي بن ميمون الرَّقِّي، حدثني سعيد بن عبد الملك بن واقِد الحَرّاني، حدثنا محمد بن فُضيلٍ الضَّبِّي، عن أبيه، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس، قال: قال عمر: لا تُغالُوا بمُهور النساء، قال: وذكر الحديث (1). وكذلك رُوي عن سعيد بن المسيّب عن عمر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتوں کے مہر میں غلو اور مبالغہ نہ کرو۔“ اور پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2762
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سعيد بن عبد الملك الحَرَّاني
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سعيد بن عبد الملك الحَرَّاني، فقد قال أبو حاتم: يتكلمون فيه، ورأيتُ فيما حدَّث أحاديث كذب. قلنا: ومجيئه بهذه الطريق يدل على صحة ذلك، فلا يُعرف إلّا من طريقه، كما أشار إليه الدارقطني في "الأفراد" كما في "أطرافه" لابن طاهر (118)، وقد اضطرب فيه أيضًا، ...» [ترقيم الرساله 2762] [ترقيم الشركة 2743]