حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا مصعب بن المِقدام، عن سفيان. وأخبرنا أبو العباس المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن يزيد بن يزيد بن جابر الشامي، عن مكحول، عن زياد بن جاريَةَ التميمي، عن حبيب بن مَسْلَمة الفِهْري، أنه قال: كان رسول الله ﷺ يُنفِّل الثلُثَ بعد الخُمُس (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2599 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2599 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (غنیمت میں سے) پانچواں حصہ (خمس) نکالنے کے بعد تہائی حصہ بطور نفل (زائد انعام) عطا فرماتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا هُشَيم، حدثنا الشَّيباني وأشعث بن سَوّار، عن محمد بن أبي المُجالِد، قال: بعثني أهلُ المسجد إلى ابن أبي أَوفى أسألُه ما صنعَ النبيُّ ﷺ في طعام خيبرَ، فأتيتُه فسألتُه عن ذلك، فقلت: هل خَمَّسه؟ قال: لا، كان أقلَّ من ذلك، وكان أحدُنا إذا أراد شيئًا أخذَ منه حاجتَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2600 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2600 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
محمد بن ابی مجالد سے روایت ہے کہ مجھے مسجد والوں نے سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے پوچھوں کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر میں ملنے والے کھانے کے ساتھ کیا کیا تھا؟ میں نے ان سے جا کر یہی سوال کیا کہ کیا آپ ﷺ نے اس کا خمس نکالا تھا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، وہ اس سے کم (اہمیت کی چیز) تھا، ہم میں سے جسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی وہ اپنی حاجت کے مطابق اس میں سے لے لیتا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا أحمد بن حنبل ومُؤمَّل بن هشام، قالا: حدثنا إسماعيل، عن يونس، عن الحسن، عن أبي بَرْزَة الأسلمي، قال: كانت العربُ تقول: مَن أكل الخُبز سَمِنَ، فلما فتحنا خيبر أجهَضْناهم عن خُبزةٍ لهم، فقعدتُ عليها، فأكلتُ منها حتى شبعتُ، فجعلتُ أنظرُ في عِطْفَيَّ هل سَمِنتُ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2601 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2601 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرب کہا کرتے تھے: جو روٹی کھاتا ہے وہ موٹا ہو جاتا ہے، جب ہم نے خیبر فتح کیا تو ہم نے انہیں ان کی روٹیوں سے ہٹا دیا (یعنی وہ دسترخوان چھوڑ کر بھاگے)، میں ایک روٹی پر بیٹھ گیا اور اس میں سے اتنا کھایا کہ سیر ہو گیا، پھر میں اپنے دونوں پہلوؤں کو دیکھنے لگا کہ کیا میں (فوری طور پر) موٹا ہوا ہوں یا نہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب ومحمد بن شاذان الجوهري، قالا: حدثنا زكريا بن عَدِي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، حدثنا قيس بن مسلم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبيه، قال: شهدتُ فتحَ خيبرَ مع رسول الله ﷺ، فلما انهزم القومُ وَقَعْنا في رِحالِهم، فأخذ الناسُ ما وجَدُوا من جُزُرٍ - قال زيد: وهي المواشي - فلم يكن بأسرعَ مِن أن فارَتِ القُدُور، فلما رأى ذلك رسولُ الله ﷺ أمر بالقُدُور فأُكفئت، ثم قَسَم بيننا، فجعل لكلِّ عشرةٍ شاةً (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2602 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2602 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فتحِ خیبر میں موجود تھا، جب دشمن نے شکست کھائی تو ہم ان کے ڈیروں میں داخل ہوئے، لوگوں نے وہاں جو مویشی (بھیڑ بکریاں) پائے وہ پکڑ لیے، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ہنڈیاں (گوشت سے) جوش مارنے لگیں، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تو آپ ﷺ نے ہنڈیاں الٹ دینے کا حکم فرمایا (تاکہ باقاعدہ تقسیم سے پہلے کوئی نہ کھائے)، پھر آپ ﷺ نے ہمارے درمیان تقسیم فرمائی اور ہر دس آدمیوں کے لیے ایک بکری مقرر فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخلَد، حدثنا شعبة، عن سِمَاك بن حَرب، عن ثعلبة بن الحَكَم قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "النُّهبة لا تَحِلُّ، فأَكْفِئوا القُدُورَ" (1). وهكذا رواه عُندَرٌ وابنُ أبي عَدِي عن شعبة، فذكروا سماعَ ثعلبة من النبي ﷺ. وهو حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، لحديث سماك بن حرب، فإنه رواه مرةً عن ثعلبة بن الحكم عن ابن عباس عن النبي ﷺ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ثعلبہ بن الحکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوٹ مار (کا مال) حلال نہیں ہے، پس تم ہانڈیوں کو الٹ دو۔“ اسی طرح اسے غندر اور ابن ابی عدی نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور انہوں نے ثعلبہ کا نبی کریم ﷺ سے سماع ذکر کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، سماک بن حرب کی حدیث کی وجہ سے، کیونکہ انہوں نے اسے ایک مرتبہ ثعلبہ بن الحکم سے، انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، سماک بن حرب کی حدیث کی وجہ سے، کیونکہ انہوں نے اسے ایک مرتبہ ثعلبہ بن الحکم سے، انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔