حدیث نمبر: 2633
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا هُشَيم، حدثنا الشَّيباني وأشعث بن سَوّار، عن محمد بن أبي المُجالِد، قال: بعثني أهلُ المسجد إلى ابن أبي أَوفى أسألُه ما صنعَ النبيُّ ﷺ في طعام خيبرَ، فأتيتُه فسألتُه عن ذلك، فقلت: هل خَمَّسه؟ قال: لا، كان أقلَّ من ذلك، وكان أحدُنا إذا أراد شيئًا أخذَ منه حاجتَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2600 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

محمد بن ابی مجالد سے روایت ہے کہ مجھے مسجد والوں نے سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے پوچھوں کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر میں ملنے والے کھانے کے ساتھ کیا کیا تھا؟ میں نے ان سے جا کر یہی سوال کیا کہ کیا آپ ﷺ نے اس کا خمس نکالا تھا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، وہ اس سے کم (اہمیت کی چیز) تھا، ہم میں سے جسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی وہ اپنی حاجت کے مطابق اس میں سے لے لیتا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2633
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،مُسدَّد: هو ابن مُسَرْهَد، وهُشيم: هو ابن بَشير الواسطي، والشَّيبانيّ: هو أبو إسحاق سليمان بن أبي سليمان.» [ترقيم الرساله 2633] [ترقيم الشركة 2616] [ترقيم العلميه 2600]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. مُسدَّد: هو ابن مُسَرْهَد، وهُشيم: هو ابن بَشير الواسطي، والشَّيبانيّ: هو أبو إسحاق سليمان بن أبي سليمان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں "مسدد" سے مراد مسدد بن مسرہد، "ہشیم" سے مراد ہشیم بن بشیر الواسطی اور "شیبانی" سے مراد ابو اسحاق سلیمان بن ابی سلیمان ہیں۔
وأخرجه أحمد (31/ 19124) عن هُشَيم بن بَشير، عن أبي إسحاق الشَّيباني وحده، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (31/ 19124) میں ہشیم بن بشیر عن ابی اسحاق الشیبانی کے طریق سے اکیلے روایت کیا ہے۔
وقد تقدم برقم (2610) من طريق أبي معاوية عن أبي إسحاق الشَّيباني.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے رقم (2610) پر ابو معاویہ عن ابی اسحاق الشیبانی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2633 سے ماخوذ ہے۔