حدَّثَناه أبو أحمد محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق العَدْل الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا أسباطُ بن نَصْر، عن سِماك بن حرب، عن ثَعلَبة بن الحَكَم عن ابن عباس، قال: انتَهَبَ الناسُ غنَمًا يومَ خيبر (1) فذَبَحُوها فجعلوا يَطبُخون منها، فجاء رسولُ الله ﷺ، فأمر بالقُدُور فأُكفِئت، وقال: "إنه لا تَصلُحُ النُّهْبةُ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: خیبر کے دن لوگوں نے کچھ بکریاں لوٹ لیں، پھر انہیں ذبح کر کے ان کا گوشت پکانے لگے، پس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہانڈیوں کے بارے میں حکم دیا تو وہ الٹ دی گئیں، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک لوٹ مار (کا مال) درست نہیں ہے۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا أبو كُدَينة، عن قابُوس بن أبي ظَبْيان، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "ليس مِنّا من انتَهَب أو سَلَبَ، أو أشار بالسَّلْب" (2). قد احتجَّ البخاري بأبي كُدَينة يحيى بن المهلَّب، و
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2605 - واحتج البخاري بأبي كدينة
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2605 - واحتج البخاري بأبي كدينة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے لوٹ مار کی یا چھینا جھپٹی کی، یا چھیننے کا اشارہ کیا۔“
امام بخاری نے ابوکدینہ یحییٰ بن مہلب سے احتجاج کیا ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام بخاری نے ابوکدینہ یحییٰ بن مہلب سے احتجاج کیا ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔