کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: لونڈی اور اس کے بچے کو الگ الگ کرنے کی ممانعت
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قطن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا إسحاق بن منصور، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، عن يزيد بن عبد الرحمن، عن الحَكَم، عن ميمون بن أبي شَبيب، عن عليٍّ: أنه فَرَّق بين جاريةٍ وولدِها، فنهاهُ النبي ﷺ عن ذلك، ورَدَّ البيعَ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2575 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان (فروخت کے وقت) جدائی کر دی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اس سے منع فرمایا اور اس بیع (سودے) کو منسوخ کر دیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2607
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه. وقد سلف برقم (2363).» [ترقيم الرساله 2607] [ترقيم الشركة 2590] [ترقيم العلميه 2575]
أخبرني أبو عبد الله أحمد بن قانِع قاضي الحرمَين ببغداد، حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحَرّاني (1)، حدثنا محمد بن سلمة الحَرّاني، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن منصور بن المعتمِر، عن رِبْعي بن حِراش، عن علي بن أبي طالب، قال: خرج عبْدانٌ إلى رسول الله ﷺ يوم الحُديبيَةِ قبل الصُّلْح، فكتب إليه مَوالِيهم، قالوا: يا محمد، والله ما خَرَجوا إليك رَغْبةً في دينك، وإنما خرجوا هِرابًا من الرِّقِّ، فقال ناسٌ: صدقوا يا رسول الله، رُدَّهم إليهم، فغَضِبَ رسول الله ﷺ، فقال: "ما أُراكم تَنْتَهون يا معشرَ قريش، حتى يبعثَ الله عليكُم مَن يضربُ رقابَكم على هذا" وأبَى أن يرُدَّهم، فقال: "هُم عُتقاءُ الله" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2576 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح سے پہلے حدیبیہ کے دن کچھ غلام بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے، ان کے مالکوں نے آپ ﷺ کو خط لکھا اور کہا: اے محمد! اللہ کی قسم! یہ لوگ آپ کے پاس آپ کے دین کی رغبت میں نہیں آئے بلکہ یہ تو غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں، کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے سچ کہا ہے، آپ ان (غلاموں) کو واپس کر دیں، اس پر رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! میرا خیال ہے کہ تم تب تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تم پر ایسا شخص نہ بھیج دے جو اس معاملے پر تمہاری گردنیں مارے“ اور آپ ﷺ نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2608
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق، لكن تابعه شريك النخعي، فتُغتفر عنعنتُه هنا.» [ترقيم الرساله 2608] [ترقيم الشركة 2591] [ترقيم العلميه 2576]