المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
النَّهْيُ عَنِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا باب: لونڈی اور اس کے بچے کو الگ الگ کرنے کی ممانعت
أخبرني أبو عبد الله أحمد بن قانِع قاضي الحرمَين ببغداد، حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحَرّاني (1)، حدثنا محمد بن سلمة الحَرّاني، عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن منصور بن المعتمِر، عن رِبْعي بن حِراش، عن علي بن أبي طالب، قال: خرج عبْدانٌ إلى رسول الله ﷺ يوم الحُديبيَةِ قبل الصُّلْح، فكتب إليه مَوالِيهم، قالوا: يا محمد، والله ما خَرَجوا إليك رَغْبةً في دينك، وإنما خرجوا هِرابًا من الرِّقِّ، فقال ناسٌ: صدقوا يا رسول الله، رُدَّهم إليهم، فغَضِبَ رسول الله ﷺ، فقال: "ما أُراكم تَنْتَهون يا معشرَ قريش، حتى يبعثَ الله عليكُم مَن يضربُ رقابَكم على هذا" وأبَى أن يرُدَّهم، فقال: "هُم عُتقاءُ الله" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2576 - على شرط مسلمسیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح سے پہلے حدیبیہ کے دن کچھ غلام بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے، ان کے مالکوں نے آپ ﷺ کو خط لکھا اور کہا: اے محمد! اللہ کی قسم! یہ لوگ آپ کے پاس آپ کے دین کی رغبت میں نہیں آئے بلکہ یہ تو غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں، کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے سچ کہا ہے، آپ ان (غلاموں) کو واپس کر دیں، اس پر رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! میرا خیال ہے کہ تم تب تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تم پر ایسا شخص نہ بھیج دے جو اس معاملے پر تمہاری گردنیں مارے“ اور آپ ﷺ نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الخولانی" ہو گیا ہے، جبکہ درست "البکائی" (مولیٰ) ہے، جن کا تعلق حران سے ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق، لكن تابعه شريك النخعي، فتُغتفر عنعنتُه هنا.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق کی "عنعنہ" کی وجہ سے سند حسن ہوتی، مگر چونکہ شریک نخعی نے ان کی متابعت کر رکھی ہے، اس لیے یہاں عنعنہ کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے (قابل معافی ہے)۔
وأخرجه أبو داود (2700) عن عبد العزيز بن يحيى الحراني، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں (2700) پر عبد العزیز بن یحییٰ الحرانی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه من طريق شريك النخعي عن منصور بن المعتمر برقم (2647) و (8013).
تفصیلِ روایت: اسی طرح کی روایت آگے چل کر شریک نخعی عن منصور بن معتمر کے طریق سے نمبر (2647) اور (8013) پر آئے گی۔
وانظر ما تقدَّم برقم (2591).
نوٹ / توضیح: اس سے متعلق سابقہ روایت نمبر (2591) ملاحظہ فرمائیں۔