حدیث نمبر: 2606
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل من أصل كتابه، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا شُعبة، عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن علي، قال: أمرَني رسول الله ﷺ أن أبيع أخوَين من السَّبْي فبعْتُهما (1)، ثم أتيتُ رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه بِبَيعهما، فقال: "فَرَّقْتَ بينهما؟ " قلت: نعم، قال: "فارتجِعْهما، ثم بِعْهما ولا تُفرّق بينهما" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله إسناد آخر عن الحكم بن عتيبة صحيح أيضًا على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2574 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جنگی قیدیوں میں سے دو بھائیوں کو فروخت کرنے کا حکم دیا، میں نے انہیں بیچ دیا، پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ان کے بک جانے کی خبر دی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے ان کے درمیان جدائی کر دی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں واپس لو اور پھر ان دونوں کو ایک ساتھ بیچو، ان کے درمیان جدائی نہ کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی دوسری سند بھی شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2606
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (2362). وانظر ما بعده.» [ترقيم الرساله 2606] [ترقيم الشركة 2589] [ترقيم العلميه 2574]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) لفظ "فبعتهما" من (ب) وحدها.
نوٹ / توضیح: لفظ "فبعتُہما" (پس میں نے ان دونوں کو بیچ دیا) صرف نسخہ (ب) میں موجود ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وهو مكرر الحديث المتقدم برقم (2362). وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور سند قوی ہے۔ یہ سابقہ حدیث نمبر (2362) کی تکرار ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2606 سے ماخوذ ہے۔