کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دشمن کے معاملے میں زیادہ احتیاط والے راستے کو اختیار کرنا
أخبرنا عبد الرحمن بن حمدان الجَلّاب بهمذان، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقي، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن عمرو بن مُرَّة، عن إبراهيم قال: أراد الضحاك بن قيس أن يستعمل مسروقًا، فقال له عُمارة بن عُقبة: أتستعمل رجلًا من بقايا قَتَلةِ عثمان؟ فقال له مسروق: حدثنا عبد الله ابن مسعود - وكان في أنفُسنا موثوقَ الحديث - أنَّ رسول الله ﷺ لما أراد قتلَ أبيك قال: مَن للصِّبْية؟ قال: "النارُ"، قد رضيتُ لك ما رضِيَ لك رسول الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2572 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2572 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے مسروق کو کسی عہدے پر فائز کرنے کا ارادہ کیا، تو عمارہ بن عقبہ نے ان سے کہا: کیا آپ ایسے شخص کو عامل بنا رہے ہیں جو عثمان کے قاتلوں میں سے بچا ہوا ہے؟ مسروق نے اسے جواب دیا: ہمیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی —اور وہ ہمارے نزدیک سچے راوی تھے— کہ رسول اللہ ﷺ نے جب تمہارے باپ (عقبہ بن ابی معیط) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے پوچھا: (میرے مرنے کے بعد) بچوں کا کیا بنے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگ“ (یعنی ان کا ٹھکانہ جہنم ہے)، پس میں تمہارے لیے اسی بات پر راضی ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے راضی ہوئے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن غالب، قالا: حدثنا عبد الرحمن بن المبارك العَيْشي، حدثنا سفيان بن حبيب، حدثنا شعبة، عن أبي العَنْبَس، عن أبي الشَّعْثاء، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ جعل فِداءَ أهلِ الجاهلية يومَ بدرٍ أربعَ مئةٍ (1). صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2573 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2573 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن جاہلیت والوں (قیدیوں) کا فدیہ چار سو (درہم) مقرر فرمایا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔