کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: آیت «فمن كان يرجو لقاء ربه» کے نزول کا سبب
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدّي، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن المبارك، أخبرنا معمر، عن عبد الكريم الجَزَري، عن طاووس، عن ابن عباس، قال: قال رجلٌ: يا رسول الله، إني أقِفُ الموقِفَ أُريد وجهَ الله، وأُريد أن يُرى مَوطِني، فلم يَرُدَّ عليه رسولُ الله ﷺ شيئًا، حتى نَزَلَتْ ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [الكهف: 110] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2527 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کسی ایسے مقام (میدانِ جنگ) میں کھڑا ہوتا ہوں جہاں میں اللہ کی رضا چاہتا ہوں، لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرا مقام (بہادری) دیکھا جائے، رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ ”پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“ [سورة الكهف: 110]۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2559
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، فقد تفرَّد نُعيم بن حماد أو من دونه بوصله، ونعيم حسن الحديث إلَّا عند المخالفة، وقد خالفه عَبْدان المروَزي فيما سيأتي عند المصنف برقم (8138)، وهو من ثقات أصحاب ابن المبارك، فجعله عن طاووس مرسلًا، وكذلك رواه مرسلًا عبد الرزاق عن معمر، وكذلك رواه غير معمر، فهذا هو ...» [ترقيم الرساله 2559] [ترقيم الشركة 2542] [ترقيم العلميه 2527]
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الله بن الحارث الجُمحي المكي، حدثنا سهيل ابن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أولُ الناسِ يدخُلُ النارَ يوم القيامة ثلاثةُ نَفَرٍ، يُؤتَى بالرجل -أو قال: بأحدهم- فيقولُ: ربِّ عَلَّمْتَني الكتابَ، فقرأتُه آناءَ الليلِ والنهارِ، رجاءَ ثوابِك، فيقال: كذبتَ، إنما كنتَ تُصلي ليُقال: إنك قارئٌ مُصَلٍّ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يُؤتَى بآخرَ، فيقول: ربِّ رَزَقْتَني مالًا فوَصَلتُ به، الرَّحِمَ وتَصدَّقتُ به على المساكين، وحَمَلتُ ابنَ السَّبيلِ، رجاءَ ثوابِك وجنّتِك، فيُقال: كذبتَ، إنما كنتَ تَتَصدّق وتَصِلُ ليقال: إنه سَمْحٌ جَوادٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار، ثم يجاء بالثالث، فيقول: ربِّ خرجتُ في سَبيلِكَ، فقاتَلْتُ فيك حتى قُتِلتُ مُقبِلًا غيرَ مُدبر، رجاءَ ثوابك وجنّتِك، فيُقال: كذبت، إنما كنتَ تقاتلُ ليقال: إنك جريءٌ شجاعٌ، وقد قيل، اذهبُوا به إلى النار" (1). حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2528 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کا فیصلہ ہو گا (جو آگ میں جائیں گے)، ایک شخص کو لایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے کتاب (قرآن) کی تعلیم دی، میں نے تیرے ثواب کی امید میں اسے دن رات پڑھا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے پڑھا تھا تاکہ کہا جائے کہ ”یہ بڑا قاری ہے“، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ، پھر دوسرے کو لایا جائے گا تو وہ کہے گا: اے رب! تو نے مجھے مال عطا کیا، میں نے تیرے ثواب اور جنت کی امید میں اس کے ذریعے صلہ رحمی کی اور صدقہ کیا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے کیا تاکہ کہا جائے کہ ”یہ بڑا سخی ہے“، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ، پھر تیسرے کو لایا جائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے رب! میں تیری راہ میں نکلا اور تیرے ثواب کی امید میں قتال کیا یہاں تک کہ میں پیٹھ پھیرے بغیر (دشمن کے) سامنے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا، اس سے کہا جائے گا: تو نے جھوٹ بولا، تو نے تو اس لیے قتال کیا تھا تاکہ کہا جائے کہ ”یہ بڑا نڈر اور بہادر ہے“، اور وہ کہہ دیا گیا، اب اسے آگ کی طرف لے جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2560
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل هشام بن عمار وعبد الله بن الحارث، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن أبي هريرة بألفاظ متقاربة، كما تقدَّم التنبيه عليه برقم (2556).» [ترقيم الرساله 2560] [ترقيم الشركة 2543] [ترقيم العلميه 2528]