کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: شہداء کا یہ کہنا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو بتا دے کہ ہم راضی ہو گئے اور ہمارا رب بھی ہم سے راضی ہو گیا
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عطاء بن السائب، قال: سمعت أبا عُبيدة بن عبد الله يقول: قال عبد الله بن مسعود: إياكُم وهذه الشهاداتِ: أن تقولَ: قُتِل فلانٌ شهيدًا، فإنَّ الرجل يُقاتِل حَمِيَّةٌ، ويُقاتِل في طلب الدنيا، ويُقاتِل وهو جُريءُ الصَّدْر، ولكن سأحدِّثكم على ما تَشهَدون؛ إنَّ رسول الله ﷺ بعث سريَّةً ذاتَ يومٍ، فلم يلبث إلَّا قليلًا حتى قام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: "إنَّ إخوانكم قد لَقُوا المشركين، فاقتَطَعُوهم فلم يبقَ منهم أحدٌ، وإنهم قالوا: ربَّنا بَلَّغْ قومَنا أنّا قد رَضِينا ورضي عنا ربُّنا، فأنا رسولُهم إليكم: أنهم قد رَضُوا ورُضِيَ عنهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الإرسال، فقد اختلف مشايخُنا في سماع أبي عُبيدة من أبيه. وله شاهدٌ موقوفٌ على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2525 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الإرسال، فقد اختلف مشايخُنا في سماع أبي عُبيدة من أبيه. وله شاهدٌ موقوفٌ على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2525 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوعبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”تم ان شہادتوں (کے دعووں) سے بچو کہ تم کہو: فلاں شخص شہید ہو گیا، کیونکہ کوئی شخص (قومی) غیرت میں لڑتا ہے، کوئی دنیا کی طلب میں لڑتا ہے اور کوئی محض اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، لیکن میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جس کی تم گواہی دے سکتے ہو؛ وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ایک فوجی دستہ روانہ فرمایا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”تمہارے بھائیوں کا مشرکین سے مقابلہ ہوا، انہوں نے انہیں شہید کر دیا اور ان میں سے کوئی باقی نہ بچا، (شہادت کے بعد) ان لوگوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم (اپنے انجام سے) راضی ہو گئے اور ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا، پس میں ان کا پیغام رساں بن کر تمہارے پاس آیا ہوں کہ وہ راضی ہو گئے اور ان سے رضا کا معاملہ کیا گیا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر یہ ارسال سے محفوظ ہو، کیونکہ ہمارے مشایخ کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ابوعبیدہ نے اپنے والد سے سنا ہے یا نہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر یہ ارسال سے محفوظ ہو، کیونکہ ہمارے مشایخ کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ابوعبیدہ نے اپنے والد سے سنا ہے یا نہیں۔
أخبرَنيه عبد الرحمن بن الحسن القاضي بَهَمذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس حدثنا شعبة، عن أبي قيس، عن هُزَيل (2) بن شُرَحبيل قال: خرج ناسٌ فقُتِلوا، فقالوا: فلانٌ استُشهِد، فقال عبد الله: إِنَّ الرجلَ لَيقاتلُ للدُّنيا، ويقاتلُ ليُعرَف، وإنَّ الرجلَ لَيموتُ على فراشِه وهو شهيد، ثم تلا ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ (3) أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ [الحديد: 19] (4).
حافظ طلحہ بابر
ہزیل بن شرجبیل سے روایت ہے کہ کچھ لوگ (جہاد میں) نکلے اور قتل کر دیے گئے، تو لوگوں نے کہا کہ فلاں شخص شہید ہو گیا، تب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک کوئی آدمی دنیا کے لیے لڑتا ہے اور کوئی اس لیے لڑتا ہے کہ وہ پہچانا جائے (مشہور ہو جائے)، حالانکہ ایک آدمی اپنے بستر پر بھی فوت ہوتا ہے اور وہ (اللہ کے ہاں) شہید ہوتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ ”اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔“ [سورة الحديد: 19]۔