حدیث نمبر: 2561
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا محمد بن أبي الوضّاح، عن العلاء بن عبد الله بن رافع (2)، عن حَنان بن خارجة، عن عبد الله بن عمرو، أنه قال: يا رسول الله، أخبرني عن الجهاد والغزو، فقال: "يا عبدَ الله بنَ عمرو، إن قاتلت صابرًا محتسِبًا، بعثك الله صابرًا محتسبًا، وإن قاتلتَ مُرائيًا مُكاثرًا، بعثك الله مُرائيًا مُكاثرًا، يا عبدَ الله ابن عمرو، على أيِّ حالٍ قاتلتَ أو قُتلتَ، بعثكَ اللهُ على تلك الحالِ" (1). حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوے کے بارے میں بتائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم نے صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے قتال کیا، تو اللہ تمہیں صبر کرنے والے اور ثواب پانے والے کی حیثیت سے اٹھائے گا، اور اگر تم نے دکھاوے اور فخر (تعداد و طاقت جتانے) کے لیے قتال کیا تو اللہ تمہیں دکھاوا کرنے والے اور فخر کرنے والے کی حیثیت سے اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی قتال کرو گے یا قتل کیے جاؤ گے، اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2561
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة حنان بن خارجة على اختلافٍ في رفع الحديث ووقفه كما بيناه في تحقيقنا على سنن أبي داود (2556).» [ترقيم الرساله 2561] [ترقيم الشركة 2544]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: نافع، والتصويب من "إتحاف المهرة"" (11649)، وفاقًا لرواية البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 186 عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده الذي هنا.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام "نافع" میں تبدیل (تحریف) ہو گیا ہے، جبکہ درست نام کی تصحیح "اتحاف المہرہ" (11649) سے کی گئی ہے۔
متابعات و شواہد: یہ تصحیح امام بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (9/ 186) کی اس روایت کے بھی موافق ہے جو انہوں نے ابوعبداللہ الحاکم کی اسی سند سے نقل کی ہے جو یہاں موجود ہے۔
(1) إسناده ضعيف لجهالة حنان بن خارجة على اختلافٍ في رفع الحديث ووقفه كما بيناه في تحقيقنا على سنن أبي داود (2556).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ حنان بن خارجہ کا مجہول (نامعلوم الحال) ہونا ہے۔ نیز اس حدیث کے "مرفوع" (نبی ﷺ کا قول) یا "موقوف" (صحابی کا قول) ہونے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔
حوالہ / مصدر: جیسا کہ ہم نے "سنن ابی داؤد" کی اپنی تحقیق (2556) میں اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (2468) من طريق إسحاق بن منصور عن عبد الرحمن بن مهدي.
تفصیلِ روایت: یہ روایت پہلے نمبر (2468) کے تحت اسحاق بن منصور کے واسطے سے بحوالہ عبدالرحمن بن مہدی گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2561 سے ماخوذ ہے۔