حدیث نمبر: 2556
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن ابن مُكْرم، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن جُرَيج، حدثنا يوسف بن يونس (3)، عن سليمان بن يَسَار، قال: تَفرَّق الناسُ عن أبي هريرة، فقال له أخو أهل الشام: أيها الشيخُ حدَّثْنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أول الناس يُقضَى فيه يوم القيامة رجلٌ استُشْهِد فأتي به، فعَرَّفه نِعَمَهُ، فَعَرَفَها، قال: فما عمِلتَ فيها؟ قال: قاتَلْتُ فيك حتى قُتِلْتُ قال: كَذَبْتَ، ولكن قاتَلْتَ ليُقال: هو جَريءٌ، فقد قيل، قال: ثم أَمَر به فسُحِبَ (1) على وجهه، حتى أُلقي في النار، ورجل تَعلّم العلمَ وعَلَّمَه، وقرأ القرآنَ، فأُتي به، فعَرَّفه نِعَمَه عليه، فعَرَفها، قال: ما عمِلتَ فيها؟ قال: تعلَّمتُ فيك العلمَ وعلمتُه وقرأتُ فيك القرآنَ، فيقول: كذبتَ، ولكنك تعلّمتَ العلمَ ليُقال: هو عالمٌ، وقرأتَ القرآنَ ليُقال: هو قارئٌ فقد قيل، ثم أَمَر به، فسُحِبَ على وجهه، حتى أُلقي في النار، ورجُلٌ وسَّع الله عليه، فأعطاهُ من أنواعِ المالِ، فأُتي به، فعَرَّفه نِعَمَه، فعَرَفها، فقال: ما عمِلتَ فيها؟ فقال: ما علِمتُ مِن شيءٍ تحبُّ أن يُنفَقَ فيه إلّا أنفقتُ فيه، قال: كذبتَ، ولكنك فعلتَ ليُقال: هو جَوَادٌ، فقد قيل، ثم أَمَر به، فسُحِبَ على وجهه، حتى أُلقيَ في النار" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه البخاري (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2524 - لم يخرجه البخاري وهو على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جب لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہٹ گئے تو ایک شامی شخص نے ان سے عرض کیا: اے شیخ! ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ کیا جائے گا وہ وہ آدمی ہوگا جو (ظاہر میں) شہید ہوا، اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان کا اعتراف کرے گا، اللہ پوچھے گا: تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں قتال کیا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا، اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے اس لیے قتال کیا تھا کہ تجھے ’بہادر‘ کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اور ایک وہ شخص جس نے علم حاصل کیا، اسے سکھایا اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا اور اللہ اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تو نے ان کے بارے میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے لیے علم حاصل کیا، اسے سکھایا اور تیرے لیے قرآن پڑھا، اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے اس لیے علم حاصل کیا تاکہ تجھے ’عالم‘ کہا جائے اور اس لیے قرآن پڑھا تاکہ تجھے ’قاری‘ کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے وسعت دی اور ہر قسم کا مال عطا کیا، اسے لایا جائے گا اور اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ پوچھے گا: تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں خرچ کرنا تجھے پسند ہو مگر وہاں تیرے لیے خرچ کیا، اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے اس لیے ایسا کیا تاکہ تجھے ’سخی‘ کہا جائے، سو وہ کہا جا چکا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن امام بخاری نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2556
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2556] [ترقيم الشركة 2539] [ترقيم العلميه 2524]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وقع هذا الحرف في (ز) في جميع المواضع في هذا الحديث بصيغة المضارع: فيُسحب.
نکتہ: نسخہ (ز) میں یہ لفظ فعل مضارع کے ساتھ "فیسحب" (پس اسے گھسیٹا جائے گا) مروی ہے۔
وقد جاء كذلك في بعض مصادر التخريج.
حوالہ: تفسیر کے بعض مصادر میں بھی اسی طرح آیا ہے۔
(3) وأخرجه مسلم (1905) من طريقي خالد بن الحارث وحجاج بن محمد عن ابن جريج.
حوالہ: اسے امام مسلم (1905) نے ابن جریج کے دو ثقہ شاگردوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2556 سے ماخوذ ہے۔