حدیث نمبر: 2557
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عطاء بن السائب، قال: سمعت أبا عُبيدة بن عبد الله يقول: قال عبد الله بن مسعود: إياكُم وهذه الشهاداتِ: أن تقولَ: قُتِل فلانٌ شهيدًا، فإنَّ الرجل يُقاتِل حَمِيَّةٌ، ويُقاتِل في طلب الدنيا، ويُقاتِل وهو جُريءُ الصَّدْر، ولكن سأحدِّثكم على ما تَشهَدون؛ إنَّ رسول الله ﷺ بعث سريَّةً ذاتَ يومٍ، فلم يلبث إلَّا قليلًا حتى قام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: "إنَّ إخوانكم قد لَقُوا المشركين، فاقتَطَعُوهم فلم يبقَ منهم أحدٌ، وإنهم قالوا: ربَّنا بَلَّغْ قومَنا أنّا قد رَضِينا ورضي عنا ربُّنا، فأنا رسولُهم إليكم: أنهم قد رَضُوا ورُضِيَ عنهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الإرسال، فقد اختلف مشايخُنا في سماع أبي عُبيدة من أبيه. وله شاهدٌ موقوفٌ على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2525 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوعبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”تم ان شہادتوں (کے دعووں) سے بچو کہ تم کہو: فلاں شخص شہید ہو گیا، کیونکہ کوئی شخص (قومی) غیرت میں لڑتا ہے، کوئی دنیا کی طلب میں لڑتا ہے اور کوئی محض اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، لیکن میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جس کی تم گواہی دے سکتے ہو؛ وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ایک فوجی دستہ روانہ فرمایا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”تمہارے بھائیوں کا مشرکین سے مقابلہ ہوا، انہوں نے انہیں شہید کر دیا اور ان میں سے کوئی باقی نہ بچا، (شہادت کے بعد) ان لوگوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم (اپنے انجام سے) راضی ہو گئے اور ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا، پس میں ان کا پیغام رساں بن کر تمہارے پاس آیا ہوں کہ وہ راضی ہو گئے اور ان سے رضا کا معاملہ کیا گیا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر یہ ارسال سے محفوظ ہو، کیونکہ ہمارے مشایخ کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ابوعبیدہ نے اپنے والد سے سنا ہے یا نہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2557
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن أبا عُبيدة بن عبد الله» [ترقيم الرساله 2557] [ترقيم الشركة 2540] [ترقيم العلميه 2525]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن أبا عُبيدة بن عبد الله - وهو ابن مسعود - لم يسمع من أبيه، فهو منقطع. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.
درجۂ حدیث: یہ صحیح لغیرہ ہے، مگر اس کی سند ابوعبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود کے اپنے والد سے نہ سننے کی وجہ سے منقطع ہے۔
وأخرجه أحمد 7 / (3952) من طريق حماد بن سلمة، عن عطاء بن السائب، به.
حوالہ: امام احمد نے اسے حماد بن سلمہ عن عطاء بن السائب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له ما بعده، وحديث أنس عند البخاري (2801)، ومسلم (1902) (147) في قراء بئر معونة.
شاہد: حضرت انس کی بئر معونہ کے قراء سے متعلق بخاری و مسلم کی روایت اس کی تائید کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2557 سے ماخوذ ہے۔