کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو جہاد کے لیے نکلا اس کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن جَبَلة بن عطية، عن يحيى بن الوليد بن عُبادة، عن جده عبادة بن الصامِت، أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن غَزَا وهو لا يَنْوي في غَزَاتِه إِلا عِقالًا، فله ما نَوَى" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث يعلى ابن مُنْية الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2522 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے (اللہ کی راہ میں) غزوہ کیا اور اس نے اپنے اس غزوے میں محض ایک رسی (اونٹ باندھنے کا عقال) حاصل کرنے کی نیت رکھی، تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2554
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير يحيى بن الوليد بن عبادة بن الصامت، فلم يرو عنه غير جَبَلة بن عطية، ولم يذكره غير ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثه هذا ابن حبان والضياء المقدسي.» [ترقيم الرساله 2554] [ترقيم الشركة 2537] [ترقيم العلميه 2522]
أخبرَنَاه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو توْبة الربيع بن نافع، حدثنا بَشير بن طلحة، عن خالد بن دُرَيك، عن يعلى ابن مُنْية، قال: كان النبيُّ ﷺ يبعثُني في سَراياهُ، فبعثني ذاتَ يوم، وكان رجلٌ يَركَبُ بَغْلي، فقلتُ له: ارحَلْ فقال: ما أنا بخَارجٍ معك، قلت: لِمَ؟ قال: حتى تجعلَ لي ثلاثةَ دنانيرَ، قلتُ: الآن حينَ ودَّعتُ النبيَّ ﷺ، ما أنا براجعٍ إليه، ارحَلْ ولك ثلاثةُ دنانيرَ، فلما رجعتُ من غَزاتي ذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ: "أعطِها إياهُ، فإنها حَظُّهُ مِن غَزَاتِه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ مجھے اپنے فوجی دستوں (سرايا) میں بھیجا کرتے تھے، ایک دن آپ ﷺ نے مجھے بھیجا تو ایک شخص میرے خچر پر سوار ہونے والا تھا، میں نے اس سے کہا: کوچ کرو (روانہ ہو جاؤ)، تو اس نے کہا: میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: یہاں تک کہ تم میرے لیے تین دینار مقرر کر دو، میں نے (دل میں) کہا: اس وقت جبکہ میں نبی کریم ﷺ کو الوداع کہہ چکا ہوں، اب میں آپ کے پاس دوبارہ واپس جانے والا نہیں ہوں، (چنانچہ میں نے اس سے کہا:) تم چلو اور تمہارے لیے تین دینار (طے) ہیں، پھر جب میں اپنے غزوے سے واپس آیا تو میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے وہ رقم دے دو، کیونکہ اس کے غزوے سے اس کا (اخروی) حصہ بس یہی ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2555
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن لا يثبت أنَّ خالد بن دُريك لقي يعلى بن مُنية، لكنه لم ينفرد به فقد تابعه عبد الله بن فيروز الديلمي، كما سيأتي برقم (2562).» [ترقيم الرساله 2555] [ترقيم الشركة 2538]