المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَنْ غَزَا فَلَهُ مَا نَوَى . باب: جو جہاد کے لیے نکلا اس کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا
حدیث نمبر: 2554
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن جَبَلة بن عطية، عن يحيى بن الوليد بن عُبادة، عن جده عبادة بن الصامِت، أنَّ النبي ﷺ قال: "مَن غَزَا وهو لا يَنْوي في غَزَاتِه إِلا عِقالًا، فله ما نَوَى" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث يعلى ابن مُنْية الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2522 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے (اللہ کی راہ میں) غزوہ کیا اور اس نے اپنے اس غزوے میں محض ایک رسی (اونٹ باندھنے کا عقال) حاصل کرنے کی نیت رکھی، تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير يحيى بن الوليد بن عبادة بن الصامت، فلم يرو عنه غير جَبَلة بن عطية، ولم يذكره غير ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثه هذا ابن حبان والضياء المقدسي.
درجۂ حدیث: یہ حسن لغیرہ ہے۔ یحییٰ بن ولید کے علاوہ تمام راوی ثقات ہیں، اور ابن حبان و ضیاء مقدسی نے اس کی تصحیح کی ہے۔
وأخرجه أحمد 37 / (22692)، والنسائي (4332) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (22728)، والنسائي (4331) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، وأحمد (22728) عن بهز بن أسد، وابن حبان (4638) من طريق عبد الواحد بن غياث ثلاثتهم عن حماد بن سلمة، به.
حوالہ: اسے امام احمد، نسائی اور ابن حبان نے حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له ما بعده.
شاہد: اگلی روایت اس کی تائید کرتی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حسن لغیرہ ہے۔ یحییٰ بن ولید کے علاوہ تمام راوی ثقات ہیں، اور ابن حبان و ضیاء مقدسی نے اس کی تصحیح کی ہے۔
وأخرجه أحمد 37 / (22692)، والنسائي (4332) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (22728)، والنسائي (4331) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، وأحمد (22728) عن بهز بن أسد، وابن حبان (4638) من طريق عبد الواحد بن غياث ثلاثتهم عن حماد بن سلمة، به.
حوالہ: اسے امام احمد، نسائی اور ابن حبان نے حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له ما بعده.
شاہد: اگلی روایت اس کی تائید کرتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2554 سے ماخوذ ہے۔