حدیث نمبر: 2553
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، أخبرنا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي؛ قالا: حدثنا إسماعيل -وهو ابن عُلَيَّة- عن أيوب وهشام وابن عَوْن، عن محمد، عن (1) أبي العَجْفاء السُّلَمي، قال: سمعتُ عمر بن الخطّاب يقول: وأخرى تقُولُونها لمن قُتِل في مَغازِيكُم أو مات: قُتِل فلانٌ وهو شهيد، أو مات فلان شهيدًا، ولعله أن يكونَ أَوْقَرَ عَجُزَ دابتِه -أو قال: راحلته- ذهبًا أو وَرِقًا يلتمس التجارة، فلا تقولوا ذاكُم، ولكن قولوا كما قال النبيُّ ﷺ: "مَن قُتِل في سبيلِ الله أو ماتَ، فهو في الجنّة" (2).
هذا حديث كبيرٌ صحيح، ولم يُخرجاه ولا واحدٌ منهما، لقول سلمة بن علقمة عن ابن سِيرين أنه قال: نُبِّئْتُ عن أبي العَجْفاء، وأنا ذاكرٌ بمشيئة الله في كتاب النكاح ما يُستدل به على صحته (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2521 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوالعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک اور بات جو تم لوگ اپنے ان غزووں میں قتل ہونے والوں یا مرنے والوں کے بارے میں کہتے ہو وہ یہ ہے کہ: ”فلاں شخص قتل ہوا اور وہ شہید ہے“ یا ”فلاں شخص شہید مرا“، حالانکہ ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی سواری کے پچھلے حصے کو «أَوْقَرَ عَجُزَ دابتِه» ”تجارت کی غرض سے سونے یا چاندی سے لاد رکھا ہو“، پس تم لوگ ایسا (قطعی طور پر) نہ کہا کرو بلکہ وہی کہا کرو جو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: ”جو اللہ کی راہ میں قتل ہوا یا فوت ہوا، وہ جنت میں ہے۔““
یہ ایک عظیم اور صحیح حدیث ہے لیکن شیخین میں سے کسی نے بھی اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ سلمہ بن علقمہ نے ابن سیرین سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ”مجھے ابوالعجفاء کے حوالے سے خبر دی گئی ہے“، اور میں (امام حاکم) ان شاء اللہ کتاب النکاح میں ایسی چیز ذکر کروں گا جس سے اس کی صحت پر استدلال کیا جا سکے گا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2553
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو المثنَّى: هو معاذ بن المثنَّى العَنبَري، ومُسدَّد: هو ابن مُسَرْهَد، وأيوب: هو ابن أبي تَميمة السَّخْتياني، وهشام: هو ابن حسان، وابن عَوْن: هو عبد الله، ومحمد: هو ابن سيرين، وأبو العجفاء: هو هَرِم بن نُسيب، وقيل في اسم أبيه غير ذلك.» [ترقيم الرساله 2553] [ترقيم الشركة 2536] [ترقيم العلميه 2521]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ع) إلى: بن، والتصويب من (ب).
تصحیح: بعض نسخوں میں 'بن' کی تحریف ہے، درستگی نسخہ (ب) سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو المثنَّى: هو معاذ بن المثنَّى العَنبَري، ومُسدَّد: هو ابن مُسَرْهَد، وأيوب: هو ابن أبي تَميمة السَّخْتياني، وهشام: هو ابن حسان، وابن عَوْن: هو عبد الله، ومحمد: هو ابن سيرين، وأبو العجفاء: هو هَرِم بن نُسيب، وقيل في اسم أبيه غير ذلك.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اس میں ایوب سختیانی، ہشام بن حسان، عبد اللہ بن عون اور محمد بن سیرین جیسے کبار ثقہ راوی ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 1 / (287).
حوالہ: یہ روایت 'مسند احمد' (1/287) میں موجود ہے۔
وأخرجه النسائي في "المجتبى" (3349) عن علي بن حُجر، عن إسماعيل ابن عُليَّة، بهذا الإسناد. وأخرجه ابن حبان (4620) من طريق يزيد بن هارون، عن ابن عَوْن وهشام بن حسان، به.
حوالہ: اسے امام نسائی اور ابن حبان نے مختلف ثقہ طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2759) من طريق يزيد بن هارون عن عبد الله بن عَوْن وحده.
حوالہ: یہ آگے نمبر (2759) پر یزید بن ہارون کے طریق سے دوبارہ آئے گی۔
قوله: "أَوْقَر عَجُزَ دابّته" أي: حَمَّلها وِقرًا، والوِقْر: حِمْل البغل والحمار ونحوهما. والوَرِق: الفضة.
توضیح: "اوفر عجز دابتہ" کا مطلب ہے اپنی سواری کے پچھلے حصے پر بوجھ لادنا۔ 'ورق' سے مراد چاندی ہے۔
(3) بإثر الرواية (2759).
حوالہ: روایت نمبر (2759) کے فوراً بعد۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2553 سے ماخوذ ہے۔