حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا القاسم بن زكريا المُطرِّز، حدثنا عمرو بن محمد الناقد، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا عبد العزيز بن عمران، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حَبِيبة، عن يزيد بن رُومان، عن عُروة بن الزُّبَير، عن عائشة قالت: جعلَ رسولُ الله ﷺ شِعارَ المهاجرين يوم بَدرٍ: عبدَ الرحمن، والأوسِ: بني عَبد الله، والخزرجِ بني عُبيد الله (2).
هذا حديث غريب صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما أخرجا (3) في الشِّعار حديث الزُّهْري، عن كثير بن العباس، عن أبيه: لما كان يومَ حُنينٍ انهزمَ الناس، الحديثَ بطوله، ويذكر فيه شِعار القبائل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2510 - بل يعقوب وإبراهيم ضعيفان
هذا حديث غريب صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما أخرجا (3) في الشِّعار حديث الزُّهْري، عن كثير بن العباس، عن أبيه: لما كان يومَ حُنينٍ انهزمَ الناس، الحديثَ بطوله، ويذكر فيه شِعار القبائل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2510 - بل يعقوب وإبراهيم ضعيفان
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن مہاجرین کا شعار (جنگی نعرہ) ”یا عبد الرحمن“، قبیلہ اوس کا ”یا بنی عبد اللہ“ اور قبیلہ خزرج کا ”یا بنی عبید اللہ“ مقرر فرمایا تھا۔
یہ ایک غریب صحیح الاسناد حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے نعروں کے بارے میں زہری کی روایت سے سیدنا کثیر بن عباس کی اپنے والد سے حدیث غزوہ حنین کے دن کی روایت کی ہے جس میں قبائل کے نعروں کا ذکر ہے۔
یہ ایک غریب صحیح الاسناد حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے نعروں کے بارے میں زہری کی روایت سے سیدنا کثیر بن عباس کی اپنے والد سے حدیث غزوہ حنین کے دن کی روایت کی ہے جس میں قبائل کے نعروں کا ذکر ہے۔
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا إسماعيل بن عبد الله بن زُرارة الرَّقّي، حدثنا عمر (1) بن صالح بن أبي الزاهِريّة الرَّقّي، قال سمعت أبا جَمْرة يقول: سمعت ابن عباس يقول: وَفَدَ على النبي ﷺ أربعُ مئة أهل بيتٍ -أو أربعُ مئة رجلٍ- من أزدِ شَنُوءة، فقال: "مرحبًا بالأزْدِ، أحسن الناس وجوهًا، وأطيبه أفواهًا، وأشجعِه لقاء، وآمنه أمانةً، شعارُكم: يا مَبرُورُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2511 - بل إسماعيل منكر الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2511 - بل إسماعيل منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ازد شنوءہ کے چار سو خاندان یا چار سو افراد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں وفد کی صورت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مرحبا قبیلہ ازد والوں کو، جو چہروں کے اعتبار سے بہترین، منہ کی خوشبو کے لحاظ سے پاکیزہ، مقابلے کے وقت بہادر اور امانت کے معاملے میں قابلِ بھروسہ لوگ ہیں، تمہارا شعار (جنگی نعرہ) ”یا مبرور“ ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔