المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
شِعَارُ الْقَبَائِلِ يَوْمَ بَدْرٍ . باب: غزوۂ بدر میں قبائل کے نعروں کا بیان
حدیث نمبر: 2542
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا إسماعيل بن عبد الله بن زُرارة الرَّقّي، حدثنا عمر (1) بن صالح بن أبي الزاهِريّة الرَّقّي، قال سمعت أبا جَمْرة يقول: سمعت ابن عباس يقول: وَفَدَ على النبي ﷺ أربعُ مئة أهل بيتٍ -أو أربعُ مئة رجلٍ- من أزدِ شَنُوءة، فقال: "مرحبًا بالأزْدِ، أحسن الناس وجوهًا، وأطيبه أفواهًا، وأشجعِه لقاء، وآمنه أمانةً، شعارُكم: يا مَبرُورُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2511 - بل إسماعيل منكر الحديثحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ازد شنوءہ کے چار سو خاندان یا چار سو افراد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں وفد کی صورت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مرحبا قبیلہ ازد والوں کو، جو چہروں کے اعتبار سے بہترین، منہ کی خوشبو کے لحاظ سے پاکیزہ، مقابلے کے وقت بہادر اور امانت کے معاملے میں قابلِ بھروسہ لوگ ہیں، تمہارا شعار (جنگی نعرہ) ”یا مبرور“ ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عمرو، والتصويب من (ب)، وهو الموافق لمصادر ترجمته، ومصادر تخريج الحديث.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں 'عمرو' تحریف ہے، درست نام وہی ہے جو نسخہ (ب) اور دیگر کتبِ تخریج میں ہے۔
(2) إسناد ضعيف جدًّا من أجل عمر بن صالح بن أبي الزاهرية، فهو متروك الحديث. أبو جمرة: هو نصر بن عمران الضُّبَعي.
درجۂ حدیث: سند انتہائی ضعیف ہے کیونکہ عمر بن صالح 'متروک الحدیث' ہے۔ ابوجمرہ سے مراد نصر بن عمران الضبعی ہیں۔
وأخرجه العقيلي في "الضعفاء" (1135)، وابن أخي ميمي في "فوائده" (360) من طريق داود ابن رشيد وابن عدي في "الكامل" 5/ 29، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 45/ 80 من طريق عمرو بن عثمان الحمصي، كلاهما عن عمر بن صالح بن أبي الزاهرية، به.
حوالہ / مصدر: اسے عقیلی نے 'الضعفاء' میں، ابن عدی نے 'الکامل' میں اور ابن عساکر نے 'تاریخ دمشق' میں مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي ذكر شعار الأزد برقم (5213) بإسناد آخر عن الطفيل بن عمرو الدوسي، ورجاله لا بأس بهم غير أنَّ فيه انقطاعًا بين الطفيل بن عمرو والراوي عنه.
حوالہ / مصدر: قبیلہ ازد کے نعرے کا ذکر آگے (5213) میں آئے گا، مگر اس میں انقطاع ہے۔
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں 'عمرو' تحریف ہے، درست نام وہی ہے جو نسخہ (ب) اور دیگر کتبِ تخریج میں ہے۔
(2) إسناد ضعيف جدًّا من أجل عمر بن صالح بن أبي الزاهرية، فهو متروك الحديث. أبو جمرة: هو نصر بن عمران الضُّبَعي.
درجۂ حدیث: سند انتہائی ضعیف ہے کیونکہ عمر بن صالح 'متروک الحدیث' ہے۔ ابوجمرہ سے مراد نصر بن عمران الضبعی ہیں۔
وأخرجه العقيلي في "الضعفاء" (1135)، وابن أخي ميمي في "فوائده" (360) من طريق داود ابن رشيد وابن عدي في "الكامل" 5/ 29، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 45/ 80 من طريق عمرو بن عثمان الحمصي، كلاهما عن عمر بن صالح بن أبي الزاهرية، به.
حوالہ / مصدر: اسے عقیلی نے 'الضعفاء' میں، ابن عدی نے 'الکامل' میں اور ابن عساکر نے 'تاریخ دمشق' میں مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي ذكر شعار الأزد برقم (5213) بإسناد آخر عن الطفيل بن عمرو الدوسي، ورجاله لا بأس بهم غير أنَّ فيه انقطاعًا بين الطفيل بن عمرو والراوي عنه.
حوالہ / مصدر: قبیلہ ازد کے نعرے کا ذکر آگے (5213) میں آئے گا، مگر اس میں انقطاع ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2542 سے ماخوذ ہے۔