المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
فَضْلُ الضُّعَفَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . باب: قیامت کے دن کمزوروں کی فضیلت
حدیث نمبر: 2540
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثني ابن جابر، عن زيد بن أرْطَاةَ، عن جُبَير بن نُفَير، عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله ﷺ: "ابغُوني الضعفاءَ، فإنما تُرزَقُون وتُنصَرُون بضعفائِكم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجا (1) حديث سعد بن أبي وقَّاص: أنه ظنَّ أنَّ له فَضْلًا على مَن دُونَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2509 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے لیے ضعیفوں کو تلاش کرو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث روایت کی ہے جس میں انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ انہیں اپنے سے کم تر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. ابن جابر: هو عبد الرحمن بن يزيد بن جابر.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ راوی ابن جابر سے مراد عبد الرحمن بن یزید ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2594) من طريق الوليد بن مسلم، والنسائي (4373) من طريق عمر بن عبد الواحد، كلاهما عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد اور نسائی نے ولید بن مسلم اور عمر بن عبد الواحد کے طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2673) من طريق عبد الله بن المبارك عن ابن جابر.
وقوله: "ابغوني" بوصل الهمزة من الثلاثي، أي: اطلبوا لي، أو بقطعها من الرباعي، أي: أعينوني على الطلب.
نوٹ / توضیح: "ابغونی" (ہمزہ وصلی کے ساتھ) کا مطلب ہے 'میرے لیے تلاش کرو'، اور اگر ہمزہ قطعی ہو تو مطلب ہے 'تلاش میں میری مدد کرو'۔
(1) أخرجه البخاري (2896) وحده دون مسلم.
حوالہ / مصدر: اسے اکیلے امام بخاری (2896) نے روایت کیا ہے، امام مسلم نے نہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ راوی ابن جابر سے مراد عبد الرحمن بن یزید ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2594) من طريق الوليد بن مسلم، والنسائي (4373) من طريق عمر بن عبد الواحد، كلاهما عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد اور نسائی نے ولید بن مسلم اور عمر بن عبد الواحد کے طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2673) من طريق عبد الله بن المبارك عن ابن جابر.
وقوله: "ابغوني" بوصل الهمزة من الثلاثي، أي: اطلبوا لي، أو بقطعها من الرباعي، أي: أعينوني على الطلب.
نوٹ / توضیح: "ابغونی" (ہمزہ وصلی کے ساتھ) کا مطلب ہے 'میرے لیے تلاش کرو'، اور اگر ہمزہ قطعی ہو تو مطلب ہے 'تلاش میں میری مدد کرو'۔
(1) أخرجه البخاري (2896) وحده دون مسلم.
حوالہ / مصدر: اسے اکیلے امام بخاری (2896) نے روایت کیا ہے، امام مسلم نے نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2540 سے ماخوذ ہے۔