حدیث نمبر: 2523
أخبرنا أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد ابن أبي صفوان الثقفي، حدثنا عبد السلام بن هاشم، حدثنا عثمان بن سعد الكاتب، عن أنس بن مالك قال: كان النبي ﷺ ينزل منزلًا إلّا وَدَّعَه بركعتين (2).
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وعثمان بن سعد ممّن يُجمع حديثُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2492 - لا فإن عبد السلام كذبه الفلاس وعثمان لين
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی کسی مقام پر قیام فرماتے تو وہاں سے روانہ ہوتے وقت اسے دو رکعتوں کے ساتھ الوداع کہتے تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عثمان بن سعد ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث کو جمع کیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2523
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد وعبد السلام بن هاشم
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد وعبد السلام بن هاشم، بل أتَّهم أبو حفص عمرو بن علي الفلّاس هذا الثاني بالكذب، غير أنه قد توبع، فيبقى الشأن في شيخه عثمان بن سعد.» [ترقيم الرساله 2523] [ترقيم الشركة 2506] [ترقيم العلميه 2492]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف عثمان بن سعد وعبد السلام بن هاشم، بل أتَّهم أبو حفص عمرو بن علي الفلّاس هذا الثاني بالكذب، غير أنه قد توبع، فيبقى الشأن في شيخه عثمان بن سعد.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں عثمان بن سعد اور عبد السلام بن ہاشم ضعیف راوی ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: دوسرے راوی (عبد السلام) پر ابو حفص عمرو بن علی الفلاس نے جھوٹ کا الزام لگایا ہے، تاہم ان کی متابعت مل جاتی ہے، اصل مسئلہ عثمان بن سعد کا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1203) عن أبي إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى عن محمد بن إسحاق بن خزيمة، وبرقم (1652) من طريق أبي عاصم الضحاك عن عثمان بن سعد.
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (1203) پر محمد بن اسحاق بن خزیمہ کے طریق سے اور نمبر (1652) پر ابو عاصم الضحاک عن عثمان بن سعد کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وقوله: ودعه، إما أن يكون بفتح الدال مخففة من وَدَعَ، أي: ترك، وإما أن يكون بفتح الدال مشددة من التوديع، كما قيل للطواف الذي يطوفه من كان آخر عهده بالبيت الحرام: طواف الوداع.
نوٹ / توضیح: لفظ "ودعه" دو طرح پڑھا جا سکتا ہے: دال کی تخفیف کے ساتھ (وَ دَعَ) جس کا مطلب 'چھوڑ دینا' ہے، یا دال کی تشدید کے ساتھ (وَدَّعَ) جس کا مطلب 'تودیع' یعنی الوداع کہنا ہے، جیسا کہ بیت اللہ کے آخری طواف کو 'طوافِ وداع' کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2523 سے ماخوذ ہے۔