المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
تَوْدِيعُ الْمَنْزِلِ بِرَكْعَتَيْنِ باب: گھر سے روانگی کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري وأبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن عبد الكريم، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: خرج رجلٌ من خيبَرَ فتبعه رجلان ورجلٌ يَتلُوهما، يقول: ارجِعا، حتى أَدْرَكَهُما فرَدَّهما، ثم قال: إنَّ هذّين شيطانان، فاقرأْ على رسولِ الله ﷺ السلامَ، وأعلِمْه أنّا في جَمْع صدقاتنا لو كانت تصلُح له لبَعثْنا بها إليه، قال: فلما قَدِمَ على النبي ﷺ حدَّثه، فنهى عند ذلك عن الخَلْوة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2494 - على شرط البخاريسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص خیبر سے نکلا تو دو آدمی اس کے پیچھے ہولیے اور ایک تیسرا شخص ان کے پیچھے یہ کہتا ہوا آ رہا تھا کہ ”تم دونوں واپس لوٹ جاؤ“، یہاں تک کہ اس نے انہیں پا لیا اور واپس بھیج دیا، پھر اس نے (پہلے شخص سے) کہا کہ ”یہ دونوں شیطان تھے، تم رسول اللہ ﷺ کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ ہم اپنے صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر وہ آپ ﷺ کے لیے (استعمال کرنا) حلال ہوتے تو ہم ضرور آپ کی طرف بھیج دیتے“، راوی کہتے ہیں کہ جب وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ واقعہ سنایا تو اس وقت آپ ﷺ نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد الکریم سے مراد ابن مالک الجزری اور عکرمہ سے مراد ابن عباس کے مولیٰ ہیں۔
وأخرجه أحمد 4 / (2510) عن عبد الجبار بن محمد الخطابي، و 4 / (2719) عن زكريا بن عدي، كلاهما عن عبيد الله بن عمرو الرقي، بهذا الإسناد.
والخَلْوة: السفر منفردًا.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے عبد الجبار اور زکریا بن عدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: حدیث میں "خلوہ" سے مراد اکیلے سفر کرنا ہے۔