حدیث نمبر: 2512
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا أسامة بن زيد، عن سعيد المقبُري، عن أبي هريرة، قال: جاء رجلٌ إلى النبي ﷺ يريد سفرًا، فقال: يا رسول الله، أوصِني، قال: "أُوصيكَ بتقْوى الله، والتكبيرِ على كل شَرَفٍ" فلما مضى قال: "اللهم ازْوِ له الأرضَ، وهَوّن عليه السفَرَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2481 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وصیت فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ اور ہر بلندی پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں“، پھر جب وہ شخص چلا گیا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ! اس کے لیے زمین کو سمیٹ دے اور اس پر سفر کو آسان فرما دے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2512
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي.» [ترقيم الرساله 2512] [ترقيم الشركة 2495] [ترقيم العلميه 2481]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي.
درجۂ حدیث: اسامہ بن زید کی وجہ سے سند حسن ہے، اور یہ اسامہ بن زید 'اللیثی' ہیں۔
وقد تقدَّم عند المصنف برقم (1650) من طريق وكيع بن الجرّاح عن أسامة.
حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے نمبر (1650) پر وکیع بن الجراح عن اسامہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2512 سے ماخوذ ہے۔