کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس نے دشمن پر تیر چلایا اور وہ تیر پہنچ گیا، چاہے خطا کرے یا لگ جائے، اسے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن منصور الحارِثي، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعْمَري، عن أبي نَجيح السُّلَمي - وهو عمرو بن عَبَسَة - قال: حاصَرْنا قصرَ الطائف، فسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن رَمَى بسهمٍ في سبيلِ الله، فله عَدْلُ محرَّرٍ"، قال: فبَلَّغتُ يومئذ ستةَ عشرَ سهمًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد عن عمرو بن عَبَسة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2469 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر چلایا، اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے“، راوی کہتے ہیں کہ اس دن میں نے سولہ تیر چلائے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2500
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،هشام: هو ابن أبي عبد الله الدَّستُوائي.» [ترقيم الرساله 2500] [ترقيم الشركة 2483] [ترقيم العلميه 2469]
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني رجالٌ من أهل العلم منهم عمرو بن الحارث، عن سُليمان بن عبد الرحمن، عن القاسم مولى (1) عبد الرحمن، عن عمرو بن عَبَسة، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن رمَى العدوَّ بسهمٍ فبَلَغَ سهمُه، أخطأَ أو أصابَ، فعَدْلُ رَقَبةٍ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے دشمن پر تیر چلایا اور وہ اپنے نشانے تک پہنچ گیا، خواہ وہ خطا کر جائے یا نشانے پر لگے، تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2501
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2501] [ترقيم الشركة 2484]