المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ فَبَلَغَ سَهْمُهُ أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ فَعَدْلُ رَقَبَةٍ باب: جس نے دشمن پر تیر چلایا اور وہ تیر پہنچ گیا، چاہے خطا کرے یا لگ جائے، اسے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 2501
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني رجالٌ من أهل العلم منهم عمرو بن الحارث، عن سُليمان بن عبد الرحمن، عن القاسم مولى (1) عبد الرحمن، عن عمرو بن عَبَسة، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن رمَى العدوَّ بسهمٍ فبَلَغَ سهمُه، أخطأَ أو أصابَ، فعَدْلُ رَقَبةٍ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے دشمن پر تیر چلایا اور وہ اپنے نشانے تک پہنچ گیا، خواہ وہ خطا کر جائے یا نشانے پر لگے، تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، والقاسم مولى عبد الرحمن - وهو ابن عبد الرحمن الدمشقي - وإن اختلف في سماعه من عمرو بن عَبَسة، قد توبع كما في الطريق السابقة.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں۔ قاسم کے حضرت عمرو بن عبسہؓ سے سماع میں اختلاف ہے، مگر متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2812) عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں۔ قاسم کے حضرت عمرو بن عبسہؓ سے سماع میں اختلاف ہے، مگر متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2812) عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2501 سے ماخوذ ہے۔