کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک سیدنا اسماعیل علیہ السلام تیر اندازی کرتے تھے۔
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد الصَّنْعاني، أخبرنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان بن سعيد الثَّوري، عن الأعمش، عن زياد بن الحُصَين، عن أبي العاليَة، عن ابن عباس، قال: مَرَّ رسولُ الله ﷺ بقومٍ يَرمُون فقال: "رَمْيًا بني إسماعيلَ، فإنَّ أباكُم كان راميًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح على شرط مسلم أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2464 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح على شرط مسلم أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2464 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے، آپ ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا: ”اے اولادِ اسماعیل! تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ (سیدنا اسماعیل علیہ السلام) بھی بہترین تیر انداز تھے“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو بن علقمة. وأخبرني الحسن بن حَليم المَروَزي - واللفظ له - حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا الحُسين بن حُرَيث، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: خرج النبيُّ ﷺ وقومٌ من أسلمَ يَرمُون، فقال: "ارمُوا بني إسماعيلَ، فإنَّ أباكُم كان راميًا، ارمُوا وأنا مع ابن الأدْرَع"، فأمسك القومُ قِسِيَّهم، فقالوا: يا رسولَ الله، مَن كنتَ معه غَلَبَ! قال: "ارمُوا وأنا معكم (2) كُلِّكم" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2465 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2465 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تو قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اولادِ اسماعیل! خوب تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ بھی ماہر تیر انداز تھے، تم تیر چلاؤ اور میں ابن ادرع کے گروہ کے ساتھ ہوں“، یہ سن کر دوسرے گروہ نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا (تیر کیوں نہیں چلاتے)؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے مقابلہ کریں جبکہ آپ جس کے ساتھ ہوں گے وہی غالب آئے گا! تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزيمة، حدثنا محمد بن مِسكين اليَمَامي وإسماعيل بن إسرائيل اللُّؤلؤي، قالا: حدثنا يحيى بن حسّان، حدثنا سليمان بن بلال، عن عبد الرحمن بن حَرْملة، عن محمد بن إياس بن سَلَمة، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على ناسٍ يَنْتَضِلون فقال: "حَسَنٌ هذا اللهوُ (1) - مرتين أو ثلاثًا - ارمُوا وأنا مع ابن الأدْرَع (2) " فأمسكَ القومُ بأيديهم، فقالوا: لا والله لا نَرمي معه وأنت معه يا رسول الله، إذًا يَنْضُلَنا، فقال: "ارمُوا (3) وأنا معكم جميعًا"، وقالا: فقال: لقد رَمَوا عامّةَ يومِهم ذلك، ثم تفرَّقوا على السَّواء، ما نَضَل بعضُهم بعضًا (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2466 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2466 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھیل کتنا اچھا ہے“ — یہ بات آپ ﷺ نے دو یا تین مرتبہ فرمائی — پھر فرمایا: ”تیر اندازی کرو اور میں ابن ادرع کے گروہ کے ساتھ ہوں“، تو دوسرے گروہ نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب آپ ان کے ساتھ ہیں تو اب ہم ان کے مقابلے میں تیر اندازی نہیں کریں گے کیونکہ پھر تو وہ ہم پر غالب آ جائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں“، راوی کہتے ہیں کہ وہ اس دن کافی دیر تک تیر اندازی کرتے رہے، پھر وہ برابری کی بنیاد پر متفرق ہوئے اور کوئی بھی کسی پر غالب نہ آیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔