حدیث نمبر: 2497
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزيمة، حدثنا محمد بن مِسكين اليَمَامي وإسماعيل بن إسرائيل اللُّؤلؤي، قالا: حدثنا يحيى بن حسّان، حدثنا سليمان بن بلال، عن عبد الرحمن بن حَرْملة، عن محمد بن إياس بن سَلَمة، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على ناسٍ يَنْتَضِلون فقال: "حَسَنٌ هذا اللهوُ (1) - مرتين أو ثلاثًا - ارمُوا وأنا مع ابن الأدْرَع (2) " فأمسكَ القومُ بأيديهم، فقالوا: لا والله لا نَرمي معه وأنت معه يا رسول الله، إذًا يَنْضُلَنا، فقال: "ارمُوا (3) وأنا معكم جميعًا"، وقالا: فقال: لقد رَمَوا عامّةَ يومِهم ذلك، ثم تفرَّقوا على السَّواء، ما نَضَل بعضُهم بعضًا (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2466 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھیل کتنا اچھا ہے“ — یہ بات آپ ﷺ نے دو یا تین مرتبہ فرمائی — پھر فرمایا: ”تیر اندازی کرو اور میں ابن ادرع کے گروہ کے ساتھ ہوں“، تو دوسرے گروہ نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب آپ ان کے ساتھ ہیں تو اب ہم ان کے مقابلے میں تیر اندازی نہیں کریں گے کیونکہ پھر تو وہ ہم پر غالب آ جائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں“، راوی کہتے ہیں کہ وہ اس دن کافی دیر تک تیر اندازی کرتے رہے، پھر وہ برابری کی بنیاد پر متفرق ہوئے اور کوئی بھی کسی پر غالب نہ آیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2497
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، ومحمد بن إياس بن سلمة» [ترقيم الرساله 2497] [ترقيم الشركة 2480] [ترقيم العلميه 2466]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: اللهم، وجاء على الصواب في "دلائل النبوة" للبيهقي 6/ 255 حديث رواه عن الحاكم بسنده، وكذا هو لفظه عند سائر من خرَّج هذا الحديث.
تصحیحِ سہو: قلمی نسخوں میں لفظ "اللہم" تحریف کا شکار ہوا ہے، درست لفظ وہی ہے جو بیہقی اور دیگر ذرائع میں ہے۔
(2) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ع) إلى: ابن الأكوع، وجاء على الصواب في (ب) وفي "دلائل النبوة" للبيهقي، وكذا جاء على الصواب في "إتحاف المهرة" للحافظ، (5997)، وفاقًا لحديث أبي هريرة الذي قبله.
تصحیحِ سہو: بعض نسخوں میں غلطی سے "ابن اکوع" لکھا گیا ہے، جبکہ درست لفظ پچھلی روایت کے موافق حضرت ابوہریرہؓ ہی ہے۔
(3) جاء في (ز) و (ص): "إذًا" بدل: "ارموا"، والمثبت هو الموافق لرواية البيهقي في "الدلائل" وغيره من مصادر التخريج.
نسخوں کا فرق: بعض نسخوں میں "ارموا" کی جگہ "اذاً" ہے، مگر "ارموا" زیادہ صحیح اور معتبر ہے۔
(4) حديث صحيح، ومحمد بن إياس بن سلمة - وإن لم يرو عنه غير عبد الرحمن بن حرملة، ولم يذكره غير ابن حبان في "الثقات" - متابع.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ محمد بن ایاس بن سلمہ اگرچہ اکیلے راوی لگتے ہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16528)، والبخاري (2899) و (3373)، و (3507)، وابن حبان (4693) و (4694) من طريق يزيد بن أبي عبيد، عن سلمة بن الأكوع. بنحو لفظ أبي هريرة الذي قبله.
حوالہ / مصدر: امام بخاری اور امام احمد نے اسے یزید بن ابی عبید عن سلمہ بن اکوعؓ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2497 سے ماخوذ ہے۔