المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
إِنَّ إِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ رَامِيًا باب: بے شک سیدنا اسماعیل علیہ السلام تیر اندازی کرتے تھے۔
أخبرَناه أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو بن علقمة. وأخبرني الحسن بن حَليم المَروَزي - واللفظ له - حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا الحُسين بن حُرَيث، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: خرج النبيُّ ﷺ وقومٌ من أسلمَ يَرمُون، فقال: "ارمُوا بني إسماعيلَ، فإنَّ أباكُم كان راميًا، ارمُوا وأنا مع ابن الأدْرَع"، فأمسك القومُ قِسِيَّهم، فقالوا: يا رسولَ الله، مَن كنتَ معه غَلَبَ! قال: "ارمُوا وأنا معكم (2) كُلِّكم" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2465 - على شرط مسلمسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تو قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اولادِ اسماعیل! خوب تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ بھی ماہر تیر انداز تھے، تم تیر چلاؤ اور میں ابن ادرع کے گروہ کے ساتھ ہوں“، یہ سن کر دوسرے گروہ نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا (تیر کیوں نہیں چلاتے)؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے مقابلہ کریں جبکہ آپ جس کے ساتھ ہوں گے وہی غالب آئے گا! تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نسخوں کا فرق: بعض قلمی نسخوں میں یہاں "مع" کا لفظ ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري.
درجۂ حدیث: محمد بن عمرو کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ ابو الموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں۔
وأخرجه ابن حبان في "صحيحه" (4695) من طريق محمد بن إبراهيم بن أبي عدي، عن محمد بن عمرو، به.
حوالہ / مصدر: امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں اسے ابن ابی عدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
وابن الأدْرَع المذكور قيل: اسمه مِحْجَن، وقيل: سلمة.
فنی نکتہ: ابن الادرع کے نام میں اختلاف ہے، بعض نے "محجن" اور بعض نے "سلمہ" کہا ہے۔
والقِسِيّ: جمعٌ للقَوس.
لغوی تشریح: "القسی" قوس (کمان) کی جمع ہے۔