حدثني أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهران، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن المُصفَّى، حدثنا علي بن عيّاش، حدثنا الليث بن سعد، حدثنا حَيْوةُ بن شُريح، عن ابن شُفَيٍّ، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ، قال: "قَفْلةٌ كعُمْرةٍ (3) " (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2399 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2399 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”(جہاد سے) واپسی کا اجر عمرہ کے برابر ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن إبراهيم البَزّاز ببغداد، حدثنا سِمَاك بن عبد الصمد، حدثنا أبو مُسهِر عبد الأعلى بن مُسهِر الغَسّاني، حدثنا إسماعيل بن عبد الله، حدثني الأوزاعي، حدثني سليمان بن حبيب، عن أبي أُمامة الباهلي، عن رسول الله ﷺ قال: "ثلاثةٌ كلُّهم ضامِنٌ على الله: رجلٌ خَرَج غازيًا في سبيل الله، فهو ضامِنٌ على الله حتى يَتَوفَّاهُ، فيُدخِلَه الجنةَ، أو يَرُدَّه بما نال من أجرٍ أو غنيمةٍ، ورجلٌ راحَ إلى المسجدِ، فهو ضامنٌ على الله حتى يَتَوفَّاهُ، فيُدخِلَه الجنةَ، أو يَرُدَّه بما نالَ من أجرٍ أو غنيمةٍ، ورجلٌ دَخَلَ بيتَه بالسَّلامِ، فهو ضامنٌ على الله" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2400 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2400 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے ضامن (ذمے) میں ہیں: ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا، وہ اللہ کے ذمے ہے یہاں تک کہ اللہ اسے وفات دے دے اور جنت میں داخل کر دے یا اسے اس اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لائے جو اسے حاصل ہوئی، دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف گیا، وہ اللہ کے ذمے ہے یہاں تک کہ اللہ اسے وفات دے دے اور جنت میں داخل کر دے یا اسے اس اجر اور ثواب کے ساتھ واپس لائے جو اسے حاصل ہوا، اور تیسرا وہ شخص جو سلام کر کے اپنے گھر میں داخل ہوا، وہ بھی اللہ کے ذمے ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عُمر (2) بن مالك الشَّرْعَبِي، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن صفوان بن سُلَيم، عن سلمان الأغَرّ، عن أبي هريرة، قال: أمر رسولُ الله ﷺ بسَريّةٍ تخرُجُ، فقالوا: يا رسول الله، أنخرُجُ الليلةَ أم حتى نُصبِحَ؟ قال: "أوَلا تحبُّون أن تَبيتُوا في خِرَافٍ من خِرَافِ الجنة؟ " (1). والخَرِيفُ: الحديقةُ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2401 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2401 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر کو روانہ ہونے کا حکم دیا، تو صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آج رات ہی روانہ ہو جائیں یا صبح ہونے تک ٹھہر جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے باغات میں رات بسر کرو؟“ اور حدیث میں لفظ خریف سے مراد باغ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد [عن سُهيل بن أبي صالح] (2) عن محمد بن مسلم بن عائذ، عن عامر بن سعد بن أبي وقّاص، عن أبيه: أنَّ رجلًا جاء إلى الصلاةِ والنبيُّ ﷺ يُصلي بنا، فقال حينَ انتهى إلى الصفِّ: اللهم آتِني أفضلَ ما تُؤتي عِبادَك الصالحين، فلما قَضَى النبيُّ ﷺ الصلاةَ، قال: "مَنِ المُتكلِّمُ آنفًا؟ " فقال الرجلُ: أنا يا رسول الله؟ فقال النبي ﷺ: "إذًا يُعقرَ جَوادُك، وتُستَشهَدَ في سبيلِ الله" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2402 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2402 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نماز کے لیے آیا جبکہ نبی کریم ﷺ ہمیں نماز پڑھا رہے تھے، جب وہ صف تک پہنچا تو اس نے یہ دعا کی: «اللهم آتِني أفضلَ ما تُؤتي عِبادَك الصالحين» ”اے اللہ! مجھے وہ بہترین چیز عطا فرما جو تو اپنے نیک بندوں کو عطا فرماتا ہے“، جب نبی کریم ﷺ نماز مکمل کر چکے تو دریافت فرمایا: ”ابھی تھوڑی دیر پہلے کلام کرنے والا کون تھا؟“ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تمہارا گھوڑا ذبح کر دیا جائے گا اور تم اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جاؤ گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔