حدیث نمبر: 2432
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عُمر (2) بن مالك الشَّرْعَبِي، عن عُبيد الله بن أبي جعفر، عن صفوان بن سُلَيم، عن سلمان الأغَرّ، عن أبي هريرة، قال: أمر رسولُ الله ﷺ بسَريّةٍ تخرُجُ، فقالوا: يا رسول الله، أنخرُجُ الليلةَ أم حتى نُصبِحَ؟ قال: "أوَلا تحبُّون أن تَبيتُوا في خِرَافٍ من خِرَافِ الجنة؟ " (1). والخَرِيفُ: الحديقةُ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2401 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر کو روانہ ہونے کا حکم دیا، تو صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آج رات ہی روانہ ہو جائیں یا صبح ہونے تک ٹھہر جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے باغات میں رات بسر کرو؟“ اور حدیث میں لفظ خریف سے مراد باغ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وقع في (ز) وحدها: عَمرو، ثم كأنَّ الواو مُحيت فيها، وهذا هو الصحيح في اسمه، وقد ذكره الحافظ مرة أخرى فيمن اسمه عمرو في "تهذيب التهذيب"، وقال: صوابه: عُمر، بالضم. قلنا: وقد رواه البيهقي في "السنن" 9/ 158 عن الحاكم، فقال في روايته: عُمر، على الصواب.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "عمرو" لکھا تھا جسے مٹا کر درست کیا گیا، حافظ ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" میں واضح کیا کہ درست نام "عُمر" (بضم العین) ہے۔ بیہقی نے السنن 9/ 158 میں اسے حاکم سے روایت کرتے ہوئے درست طور پر "عُمر" ہی لکھا ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسنادٌ قوي من أجل عُمر بن مالك الشَّرْعبي، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمر بن مالک الشرعبی کی وجہ سے یہ سند قوی ہے، وہ صدوق راوی ہیں اور ان کی متابعت بھی کی گئی ہے۔
وأخرجه النسائي (8783) عن الحارث بن مسكين، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: نسائی (8783) نے الحارث بن مسکین عن عبداللہ بن وہب کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وقد رواهُ ابنُ وهب أيضًا عن عبد الله بن لهيعة، كما وقع في رواية ابن المقرئ في "معجمه" (33). وروايته عنه جيدة قديمة قبل احتراق كتبه.
متابعات و شواہد: ابن وہب نے اسے عبداللہ بن لہیعہ سے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ ابن المقرئ کے "معجم" (33) میں ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن وہب کا ابن لہیعہ سے سماع کتب جلنے سے پہلے کا ہے، اس لیے یہ روایت جید (بہتر) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "عمرو" لکھا تھا جسے مٹا کر درست کیا گیا، حافظ ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" میں واضح کیا کہ درست نام "عُمر" (بضم العین) ہے۔ بیہقی نے السنن 9/ 158 میں اسے حاکم سے روایت کرتے ہوئے درست طور پر "عُمر" ہی لکھا ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسنادٌ قوي من أجل عُمر بن مالك الشَّرْعبي، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمر بن مالک الشرعبی کی وجہ سے یہ سند قوی ہے، وہ صدوق راوی ہیں اور ان کی متابعت بھی کی گئی ہے۔
وأخرجه النسائي (8783) عن الحارث بن مسكين، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: نسائی (8783) نے الحارث بن مسکین عن عبداللہ بن وہب کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وقد رواهُ ابنُ وهب أيضًا عن عبد الله بن لهيعة، كما وقع في رواية ابن المقرئ في "معجمه" (33). وروايته عنه جيدة قديمة قبل احتراق كتبه.
متابعات و شواہد: ابن وہب نے اسے عبداللہ بن لہیعہ سے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ ابن المقرئ کے "معجم" (33) میں ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن وہب کا ابن لہیعہ سے سماع کتب جلنے سے پہلے کا ہے، اس لیے یہ روایت جید (بہتر) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2432 سے ماخوذ ہے۔