کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ کی راہ میں ایک دن گزارنا اس کے سوا ہزار دنوں سے بہتر ہے۔
أخبرني الحسن بن حليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا محمد بن مَعْن الغِفاري أبو مَعْن، حدثنا زُهْرة بن مَعْبد القرشي، عن أبي صالح مولى عثمان، قال: سمعت عثمان بن عفّان في مسجد الخَيْف بمنًى، وحدثنا أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: "يومٌ في سبيلِ الله خيرٌ من ألفِ يومٍ فيما سواهُ"، فليَنْظُر كلُّ امرئٍ لنفسِه (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2381 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2381 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے اور انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کی راہ میں (گزارا ہوا) ایک دن اس کے علاوہ دیگر مقامات کے ایک ہزار دنوں سے بہتر ہے۔“ پس ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کے لیے (بھلائی کا) سامان دیکھ لے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني هشام بن سعد، عن سعيد بن أبي هلال، عن ابن أبي ذُباب، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا من أصحاب النبي ﷺ مَرَّ بِشِعْب فيه عُيَينةٌ من ماءٍ عَذْب، فأعجبه طِيبُه وحُسنُه، فقال: لو اعتزلتُ الناسَ وأقمتُ في هذا الشِّعْبِ، ثم قال: لا أفعلُ حتى أستأمِرَ رسولَ الله ﷺ، فذَكَر ذلك لرسول الله ﷺ، فقال: "لا تَفعلْ، فإنَّ مَقامَ أحدِكُم في سبيل الله أفضلُ من صلاته في أهله ستين عامًا، ألا تحبُّون أن يغفرَ اللهُ لكم، ويُدخلَكُم الجنةَ اغزُوا في سبيلِ الله، مَن قاتَلَ في سبيل الله فُواقَ ناقةٍ، وَجَبَت له الجنةُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2382 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2382 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کا گزر ایک ایسی گھاٹی سے ہوا جہاں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا، انہیں اس کی پاکیزگی اور خوبصورتی بہت پسند آئی تو انہوں نے (دل میں) کہا: کاش میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اس گھاٹی میں قیام کر لوں، پھر انہوں نے سوچا: میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا جب تک رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہ لے لوں، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، کیونکہ اللہ کی راہ میں تم میں سے کسی کا قیام کرنا اپنے گھر والوں میں رہ کر ساٹھ سال تک نماز پڑھنے سے بہتر ہے، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرما دے اور تمہیں جنت میں داخل کر دے؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جس نے اللہ کی راہ میں اونٹنی کا دودھ دوہنے کے درمیانی وقفے کے برابر بھی قتال کیا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔