حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن الأعمش، عن مسلم البَطِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: لما أخرج أهلُ مكةَ النبيَّ ﷺ، قال أبو بكر الصِّدّيق: إنا لله وإنا إليه راجعون، أخرَجُوا نبيهم ﷺ، لَيَهلِكُنّ. قال: فنَزَلَت (أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقاتِلُونَ (1) بأَنَّهُم ظُلِمُوا وإِنَّ اللهَ عَلى نَصْرِهِم لَقَدِيرٌ) [الحج: 39]. وكان ابن عبّاس يقرؤُها (أَذِنَ). قال أبو بكر الصِّدِّيق: فعلمتُ أنها قِتالٌ. قال ابن عباس: وهي أول آية نَزَلَت في القتال (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2376 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ کو (وہاں سے) نکالا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انا للہ وانا الیہ راجعون، انہوں نے اپنے نبی ﷺ کو نکال دیا، اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ ”اجازت دے دی گئی ہے ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جا رہی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور یقیناً اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔“ [سورة الحج: 39] اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے (أُذِنَ) پڑھتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تب مجھے علم ہوا کہ اب قتال (جنگ) ہو کر رہے گی۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قتال کے بارے میں نازل ہونے والی یہ پہلی آیت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2407
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع. وقد اختُلف في وصل هذا الحديث وإرساله عن سفيان الثَّوري، كما نبَّه عليه الترمذيُّ بإثر الحديث (3171)، والدارقطني في "العلل" (22)، فوصله عن الثَّوري: إسحاق بن يوسف الأزرق وأبو حذيفة النَّهدي كما سيأتي برقم ...» [ترقيم الرساله 2407] [ترقيم الشركة 2389] [ترقيم العلميه 2376]
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشَاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحُسين بن واقِد، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ عبد الرحمن بن عوف وأصحابًا له أتَوُا النبيَّ ﷺ، فقالوا: يا نبيَّ الله، كنا في عزٍّ (1) ونحن مشركون، فلما آمنّا صِرْنا أذلةً! فقال: "إني أُمرتُ بالعفو، فلا تُقاتِلوا القومَ"، فلما حَوَّله إلى المدينة أمرَهُ بالقتال، فكَفُّوا، فأنزل الله ﵎: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ [النساء: 77] (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2377 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! جب ہم مشرک تھے تو ہم بڑی عزت و وقار میں تھے، لیکن جب سے ہم ایمان لائے ہیں، ہم (ظاہری طور پر) کمزور ہو گئے ہیں!“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے درگزر اور معاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم ابھی ان لوگوں سے قتال نہ کرو۔“ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مدینہ منورہ منتقل فرما دیا تو آپ ﷺ کو قتال کا حکم دیا گیا، لیکن وہ (کچھ لوگ قتال سے) رک گئے، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ ”کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، پھر جب ان پر قتال فرض کر دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے (یوں) ڈرنے لگا (جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے)۔“ [سورة النساء: 77]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2408
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، وقد توبع. والحسين بن واقد قوي الحديث.» [ترقيم الرساله 2408] [ترقيم الشركة 2390] [ترقيم العلميه 2377]
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا رَوْح، حدثنا حبيب بن شهاب العَنْبَري قال: سمعت أبي يقول: أتيتُ ابنَ عباس أنا وصاحبٌ لنا، قال: فلقِيْنا أبو هريرة عند باب ابن عباس، فقال: مَن أنتُما؟ فأخبرْناه، فقال: انطلقا إلى ناسٍ على تمر وماءٍ، إنما يسيلُ وادٍ بقَدَرِه، قلنا: كثُر خَيْرُك، استأذِن لنا على ابنِ عباس، فاستأذَنَ لنا، فسمعْنا ابنَ عباس يحدِّث عن رسول الله ﷺ، فقال: خَطَبَ رسولُ الله ﷺ يومَ تَبوك، فقال: "ما في الناس مِثلُ رجلٍ آخذٍ بعِنانِ فرسِهِ، فيُجاهد في سبيل الله، ويَجتَنِبُ شُرورَ الناسِ، ومِثلُ رجلٍ بادٍ في غَنَمِه، يَقْرِي ضَيفَه، ويُؤدّي حقَّه"، قال: فقلتُ: أقالَها؟ قال: قالها، قال: فقلت: أقالها؟ قال: قالها - ثلاثًا - فكبَّرتُ وحَمِدتُ وشَكَرتُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2378 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حبیب بن شہاب عنبری کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اور میرا ایک ساتھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو ہماری ملاقات ان کے دروازے پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ ہم نے انہیں بتایا، تو انہوں نے فرمایا: ”ان لوگوں کے پاس چلو جو کھجوروں اور پانی پر موجود ہیں، یقیناً وادی اپنی وسعت کے مطابق ہی بہتی ہے۔“ ہم نے کہا: ”اللہ آپ کا بھلا کرے، ہمارے لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجازت طلب کیجیے۔“ انہوں نے ہمارے لیے اجازت لی، پھر ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں اس شخص جیسا کوئی بہتر نہیں جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور لوگوں کے شر سے بچ کر رہتا ہے، اور اس شخص کی طرح جو اپنے ریوڑ کے ساتھ دیہات میں رہتا ہے، اپنے مہمان کی مہمانی کرتا ہے اور اس کا حق ادا کرتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ”کیا آپ ﷺ نے واقعی یہ فرمایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، آپ ﷺ نے یہی فرمایا ہے۔“ میں نے پھر پوچھا: ”کیا واقعی آپ ﷺ نے یہی فرمایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، آپ ﷺ نے یہی فرمایا ہے۔“ انہوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی، تو میں نے اللہ کی کبریائی بیان کی، اس کی حمد کی اور شکر ادا کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2409
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2409] [ترقيم الشركة 2391] [ترقيم العلميه 2378]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو محمد بن موسى العَدْل، قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المعافَى بن سليمان، حدثنا فُليح بن سليمان، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن مَعْمَر، عن سعيد بن يَسار، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ألا أُخبِرُكم بخَيرِ الناس منزلةً؟ " قالوا: بلى يا رسول الله، قال: "رجلٌ آخِذٌ بعِنانِ فَرسِه في سبيل الله حتى يُقتَلَ أو يموتَ، ألا أُخبِرُكم بالذي يَليهِ: رجلٌ مُعتزِلٌ في شِعْبٍ، يُقيم الصلاةَ، ويُؤتي الزكاة، ويَشهَد أن لا إلهَ إلّا الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2379 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں منزل و مقام کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا جائے یا اسے موت آ جائے، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس کے بعد (بہتری میں) اس کے قریب ہے؟ وہ شخص جو کسی گھاٹی میں (آبادی سے) الگ تھلگ رہ کر نماز قائم کرتا ہے، زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2410
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان، فحديثه حسن في المتابعات والشواهد، وقد روي هذا الحديث عن أبي هريرة من وجوه أُخر كما سيأتي.» [ترقيم الرساله 2410] [ترقيم الشركة 2392] [ترقيم العلميه 2379]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخَير، عن أبي الخطّاب، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ عامَ تبوكَ خَطَبَ الناسَ وهو مُضِيفٌ ظَهْرَه إلى نخلة، فقال: "ألا أُخبِرُكُم بخيرِ الناس وشرِّ الناسِ، إنَّ مِن خيرِ الناسِ رجل (1) عَمِلَ في سبيل الله على ظَهْر فَرسِه، أو على ظهر بَعيرِه، أو على قَدَمَيه، حتى يأتيَه الموتُ، وإنَّ من شرّ الناسِ رجل فاجر جَريء، يقرأَ كتابَ الله، لا يَرْعَوِي إلى شيءٍ منه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2380 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے سال لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ ﷺ ایک کھجور کے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں لوگوں میں سے سب سے بہتر اور سب سے بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یقیناً لوگوں میں سے بہتر وہ شخص ہے جس نے اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر یا اپنے اونٹ کی پیٹھ پر یا اپنے قدموں پر چل کر عمل کیا یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، اور لوگوں میں سے بدترین وہ گناہ گار اور نڈر شخص ہے جو اللہ کی کتاب تو پڑھتا ہے لیکن اس (کی وعیدوں اور احکامات) میں سے کسی چیز سے باز نہیں آتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2411
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي الخطاب - وهو المصري - وله طريق أخرى فيها انقطاع لكنها بانضمامها لهذه الطريق يتحسن الحديثُ إن شاء الله، مع ما له من شواهد. ابن وهب: هو عبد الله، وأبو الخير: هو مرثد بن عبد الله اليزني.» [ترقيم الرساله 2411] [ترقيم الشركة 2393] [ترقيم العلميه 2380]