حدیث نمبر: 2410
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو محمد بن موسى العَدْل، قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المعافَى بن سليمان، حدثنا فُليح بن سليمان، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن مَعْمَر، عن سعيد بن يَسار، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "ألا أُخبِرُكم بخَيرِ الناس منزلةً؟ " قالوا: بلى يا رسول الله، قال: "رجلٌ آخِذٌ بعِنانِ فَرسِه في سبيل الله حتى يُقتَلَ أو يموتَ، ألا أُخبِرُكم بالذي يَليهِ: رجلٌ مُعتزِلٌ في شِعْبٍ، يُقيم الصلاةَ، ويُؤتي الزكاة، ويَشهَد أن لا إلهَ إلّا الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2379 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں منزل و مقام کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا جائے یا اسے موت آ جائے، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس کے بعد (بہتری میں) اس کے قریب ہے؟ وہ شخص جو کسی گھاٹی میں (آبادی سے) الگ تھلگ رہ کر نماز قائم کرتا ہے، زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2410
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان، فحديثه حسن في المتابعات والشواهد، وقد روي هذا الحديث عن أبي هريرة من وجوه أُخر كما سيأتي.» [ترقيم الرساله 2410] [ترقيم الشركة 2392] [ترقيم العلميه 2379]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان، فحديثه حسن في المتابعات والشواهد، وقد روي هذا الحديث عن أبي هريرة من وجوه أُخر كما سيأتي.
درجۂ حدیث: "حدیث صحیح" ہے؛ فلیح بن سلیمان کی وجہ سے سند "حسن" ہے اور اس کے دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔
وأخرجه أحمد 16/ (10779) عن عبد الملك بن عمرو العقدي وسريج بن النعمان، كلاهما عن فُليح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے فلیح کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 15/ (9723)، ومسلم (1889)، وابن ماجه (3977)، والنسائي (8779) و (11213)، وابن حبان (4600) من طريق بعجة بن عبد الله بن بدر الجهني، وأحمد 15/ (9142) من طريق أبي وهب مولى أبي هريرة، و 16/ (10766) من طريق شهاب بن مُدلج، ثلاثتهم عن أبي هريرة. لكن في إسناد رواية أبي وهب أبو معشر نجيح السِّنْدي، وهو ضعيف، وفي رواية شهاب بن مُدلِج امرأة مجهولة هي القلوص بنت عُليبة.
حوالہ / مصدر: یہ روایت صحیح مسلم (1889) اور دیگر کتب میں مختلف صحابہ اور تابعین سے مروی ہے۔
وسيأتي عند المصنف بنحوه أيضًا بالأرقام (2491) و (8536) و (8643) و (8782) من طريق عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن نافع بن سرجس، عن أبي هريرة، مرفوعًا وموقوفًا. لكن قُيِّد هناك بأنَّ ذلك في أيام الفتن، قال الحافظ ابن رجب الحنبلي في "شرح البخاري" 1/ 107: الروايات المقيَّدة بالفتن تقضي على الروايات المطلَقة.
فقہی نکتہ: یہ روایات رقم (2491) وغیرہ پر آئیں گی۔ حافظ ابن رجب کے مطابق یہ حکم فتنوں کے ایام کے لیے مخصوص ہے، عمومی حالات کے لیے نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2410 سے ماخوذ ہے۔