المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
مَسْأَلَةُ الْمُحْرِمِ إِذَا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ باب: محرم اگر اپنی بیوی سے ہمبستری کر بیٹھے تو اس کا حکم۔
حدثني أبو الحسن علي بن عمر الحافظ، حدثنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن زياد الفقيه النَّيسابوري، حدثنا محمد بن يحيى الذُّهْلي وأحمد بن منصور الرَّمادي وعلي بن حرب الموصلي، قالوا: حدثنا محمد بن عُبيد، حدثنا عُبيد الله بن عُمر، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى عبد الله بن عمرو يسأله عن مُحْرمٍ وقعَ بامرأةٍ، فأشار إلى عبد الله بن عمر، فقال: اذهب إلى ذاك، فاسأله، قال شُعيبٌ: فلم يَعرفْه الرجلُ، فذهبتُ معه، فسألَ ابنَ عمر فقال: بَطَلَ حَجُّك، فقال الرجلُ: ما أصنعُ؟ قال: أَحرِمْ مع الناس واصنَعْ ما يصنعون، فإذا أدركتَ قابلًا، فحُجَّ وأَهْدِ، فرجَع إلى عبد الله بن عَمرو وأنا معه، فقال: اذهبْ إلى ابن عباس فسَلْه، قال شُعيبٌ: فذهبتُ معه إلى ابن عباس فسأله، فقال له كما قال ابنُ عمر، فرجع إلى عبد الله بن عمرو وأنا معه، فأخبره بما قال ابنُ عباس، ثم قال: ما تقولُ أنت؟ فقال: قَولي مثلُ ما قالا (1).
هذا حديث ثقاتٌ رواتُه حفاظٌ، وهو كالآخِذِ باليد في صحة سماع شعيب بن محمد من جده عبد الله بن عمرو. هذا آخر ما أدّى إليه اجتهادي من الزيادة في كتاب البيوع على ما خرَّجه الإمامان أبو عبد الله البخاري وأبو الحسين القُشَيري ﵄. وقد ذكرتُ في ضمن هذا الكتاب كتبًا قد ترجمها البخاريُّ في آخرِ كتابِ البيوعِ؛ فمنها كتابُ السَّلَم، وكتاب الشُّفعة، وكتاب الإجارة، وكتاب الحَوَالة، وكتاب الحَرْث، وكتاب المُزارَعة، وكتاب المُساقاة، وكتاب العطايا، وكتاب الهِبات، وكتاب القِراض، وكتاب اللُّقَطة، وكتاب المَظالم، وكتاب التعفُّف عن المسألة، وكتاب الرهن، وكتاب الشَّرِكة، وكتاب العِتْق، وكتاب المُكاتَب، وكتاب الشهادات، وكتاب الصُّلح، وكتاب الشروط، وكتاب الوصايا، وكتاب الوقف، وإنما شرحتُها في آخر هذا الكتاب لئلّا يَتوهَّم مُتَوهِّمٌ أني أخلَيتُ كتابَ البُيوع عن هذه الكتب، والله المُعين على ما أُؤمِّله مِن تتبع آثار الإمامَين ﵄، وهو حسبي ونِعْم الوكيلُ. [كتاب الجهاد]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2375 - صحيح_x000D_
كِتَابُ الْجِهَادِسیدنا شعیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے اس محرم کے بارے میں سوال کیا جس نے (احرام کی حالت میں) اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہو، تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”ان کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو۔“ شعیب کہتے ہیں: اس شخص نے انہیں نہیں پہچانا تو میں اس کے ساتھ گیا، اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تمہارا حج باطل ہو گیا ہے۔“ اس شخص نے پوچھا: ”اب میں کیا کروں؟“ انہوں نے فرمایا: ”لوگوں کے ساتھ (احرام کی حالت میں) رہو اور وہی اعمال کرو جو وہ کر رہے ہیں، پھر جب اگلا سال آئے تو حج کرنا اور قربانی (ہدی) دینا۔“ وہ شخص واپس سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا، انہوں نے فرمایا: ”اب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔“ شعیب کہتے ہیں: میں اس کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، اس نے سوال کیا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیا تھا۔ وہ شخص واپس عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا، اس نے انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی خبر دی تو ابن عمرو رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”تمہاری اپنی کیا رائے ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”میری رائے بھی وہی ہے جو ان دونوں نے فرمائی۔“
یہ ایسی حدیث ہے جس کے راوی ثقہ اور حافظ ہیں، اور یہ شعیب بن محمد کا اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماع کی صحت پر واضح دلیل ہے۔ یہ وہ آخری زائد احادیث تھیں جن تک میری اجتہادی رسائی کتاب البیوع میں ہوئی جو امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کی تخریج کردہ احادیث کے علاوہ ہیں۔ میں نے اس کتاب کے ضمن میں ان کتب کا ذکر بھی کیا ہے جن کے عنوانات امام بخاری نے کتاب البیوع کے آخر میں قائم کیے ہیں؛ جن میں کتاب السلم، کتاب الشفعہ، کتاب الاجارہ، کتاب الحوالہ، کتاب الحرث، کتاب المزارعہ، کتاب المساقاۃ، کتاب العطایا، کتاب الہبات، کتاب القراض، کتاب اللقطہ، کتاب المظالم، کتاب التعفف عن المسألہ، کتاب الرہن، کتاب الشرکہ، کتاب العتق، کتاب المکاتب، کتاب الشہادات، کتاب الصلح، کتاب الشروط، کتاب الوصایا اور کتاب الوقف شامل ہیں۔ میں نے ان کی تشریح اس کتاب کے آخر میں اس لیے کی ہے تاکہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ میں نے کتاب البیوع کو ان کتب سے خالی چھوڑ دیا ہے، اور اللہ ہی اس کام میں میرا مددگار ہے جس کی میں امید رکھتا ہوں کہ شیخین کے آثار کی پیروی کر سکوں، وہی میرے لیے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: سند "حسن" ہے اور امام بیہقی و مزی نے اس کی تصحیح کی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 167، وفي "معرفة السنن والآثار" (10342) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے اسے امام حاکم کی سند سے اپنی کتابوں میں روایت کیا ہے۔
وهو في "سنن الدارقطني" (3000)، ومن طريقه أخرجه البيهقي في "السنن" 5/ 367.
حوالہ / مصدر: یہ روایت سنن دارقطنی (3000) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 23/ 116 من طريق أبي طاهر المخلِّص، عن عبد الله بن محمد بن زياد، به.
حوالہ / مصدر: ابن عساکر نے اسے ابوطاہر المخلص کے طریق سے نقل کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة (13248 - عوامة) عن عبد الله بن نمير، وابن أبي خيثمة في السفر الثالث من "تاريخه الكبير" (2684) من طريق عتاب بن سعيد، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 23/ 117 من طريق عبد العزيز بن محمد الدراوردي، ثلاثتهم عن عُبيد الله بن عمر، به.
حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ، ابن ابی خیثمہ اور ابن عساکر نے اسے عبید اللہ بن عمر کے طریق سے روایت کیا ہے۔