المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
حُكْمُ اللُّقَطَةِ باب: ملنے والی گمشدہ چیز (لقطہ) کے احکام۔
حدیث نمبر: 2403
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي. وأخبرني عبد الله بن محمد (1) بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن سعيد الجُرَيري، عن أبي العلاء، عن مُطرِّف، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ سُئل عن اللُّقَطة، فقال: "تُعرَّفُ ولا تُغيَّبُ ولا تُكتَم، فإن جاء صاحِبُها، وإلّا فهو مالُ الله يُؤتِيهِ مَن يشاءُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2372 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے گری پڑی چیز (لقطہ) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تشہیر کی جائے گی، اسے نہ تو چھپایا جائے گا اور نہ ہی پوشیدہ رکھا جائے گا، پھر اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو) ورنہ وہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يحيى. وإنما هو عبد الله بن محمد بن موسى الكعبي، وقد جاء على الصواب في عشرات المواضع من هذا الكتاب. وانظر ترجمته في "السير" 15/ 530.
نوٹ / تصحیح: قلمی نسخوں میں نام "یحییٰ" ہو گیا ہے، جبکہ درست نام "عبداللہ بن محمد بن موسیٰ الکعبی" ہے۔ اس کتاب میں بیسیوں جگہ یہ نام درست لکھا ہوا موجود ہے۔
(2) إسناده صحيح، وصحَّحه الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (950). حماد: هو ابن سلمة، وهو ممَّن سمع من سعيد الجريري - وهو ابن إياس - قبل تغيُّره واختلاطه، وأبو العلاء: هو يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، ومطرِّفٌ أخوه.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے اور حافظ ابن حجر نے بھی اس کی تصحیح کی ہے۔ حماد بن سلمہ نے یہ روایت سعید الجریری کے اختلاط (یادداشت خراب ہونے) سے پہلے سنی ہے، اس لیے یہ معتبر ہے۔
وأخرجه النسائي (5777) من طريق أسد بن موسى، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام نسائی (5777) نے اسے اسد بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ولحماد بن سلمة فيه إسناد آخر عند النسائي أيضًا (5777) يرويه عن خالد الحذاء عن يزيد بن عبد الله بن الشخير عن مطرِّف، عن عياض بن حمار فذكر فيه عياض بن حمار بدل أبي هريرة، فصار الاختلاف خالد الحذاء وبين سعيد الجُريري في تعيين الصحابي، ومثل هذا الاختلاف لا يضر بصحة الحديث، على أنَّ في حديث عياض ذكر الإشهاد على اللُّقطة بدل ذكر تعريفها، فكأنهما حديثان، والله تعالى أعلم.
فنی نکتہ / علّت: حماد بن سلمہ کی ایک اور سند میں صحابی کا نام "عیاض بن حمار" ہے جبکہ اس روایت میں "ابوہریرہ" ہے۔ ایسا اختلاف حدیث کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا، اور بظاہر یہ دو الگ الگ احادیث ہیں۔
وقد أخرجه بذكر عياض بن حمار: أحمد 29/ (17481) و 30/ (18336) و (18343)، وأبو داود (1709)، وابن ماجه (2505)، والنسائي (5776) و (5777)، و (5968)، وابن حبان (4894) من طرق عن خالد الحذاء، عن أبي العلاء، عن أخيه مُطرِّف، عن عياض بن حمار.
حوالہ / مصدر: عیاض بن حمار کے ذکر کے ساتھ اسے امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ اور نسائی نے خالد الحذاء کے طریق سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / تصحیح: قلمی نسخوں میں نام "یحییٰ" ہو گیا ہے، جبکہ درست نام "عبداللہ بن محمد بن موسیٰ الکعبی" ہے۔ اس کتاب میں بیسیوں جگہ یہ نام درست لکھا ہوا موجود ہے۔
(2) إسناده صحيح، وصحَّحه الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (950). حماد: هو ابن سلمة، وهو ممَّن سمع من سعيد الجريري - وهو ابن إياس - قبل تغيُّره واختلاطه، وأبو العلاء: هو يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، ومطرِّفٌ أخوه.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے اور حافظ ابن حجر نے بھی اس کی تصحیح کی ہے۔ حماد بن سلمہ نے یہ روایت سعید الجریری کے اختلاط (یادداشت خراب ہونے) سے پہلے سنی ہے، اس لیے یہ معتبر ہے۔
وأخرجه النسائي (5777) من طريق أسد بن موسى، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام نسائی (5777) نے اسے اسد بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ولحماد بن سلمة فيه إسناد آخر عند النسائي أيضًا (5777) يرويه عن خالد الحذاء عن يزيد بن عبد الله بن الشخير عن مطرِّف، عن عياض بن حمار فذكر فيه عياض بن حمار بدل أبي هريرة، فصار الاختلاف خالد الحذاء وبين سعيد الجُريري في تعيين الصحابي، ومثل هذا الاختلاف لا يضر بصحة الحديث، على أنَّ في حديث عياض ذكر الإشهاد على اللُّقطة بدل ذكر تعريفها، فكأنهما حديثان، والله تعالى أعلم.
فنی نکتہ / علّت: حماد بن سلمہ کی ایک اور سند میں صحابی کا نام "عیاض بن حمار" ہے جبکہ اس روایت میں "ابوہریرہ" ہے۔ ایسا اختلاف حدیث کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا، اور بظاہر یہ دو الگ الگ احادیث ہیں۔
وقد أخرجه بذكر عياض بن حمار: أحمد 29/ (17481) و 30/ (18336) و (18343)، وأبو داود (1709)، وابن ماجه (2505)، والنسائي (5776) و (5777)، و (5968)، وابن حبان (4894) من طرق عن خالد الحذاء، عن أبي العلاء، عن أخيه مُطرِّف، عن عياض بن حمار.
حوالہ / مصدر: عیاض بن حمار کے ذکر کے ساتھ اسے امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ اور نسائی نے خالد الحذاء کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2403 سے ماخوذ ہے۔